Islam Times:
2026-07-24@09:48:59 GMT

غزہ میں آئندہ ہفتے تک جنگ بندی ہو جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

غزہ میں آئندہ ہفتے تک جنگ بندی ہو جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کار یا کسی دیگر قابل احترام ادارے کے اہلکار ایران کی ان نیوکلیئر تنصیبات کا معائنہ کریں، جن پر پچھلے ہفتے امریکا نے بمباری کی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے ہفتے تک غزہ میں جنگ بندی کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے بہت قریب ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں غزہ میں آئندہ ہفتے تک جنگ بندی ہو جائے گی۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اگر مستقبل میں انٹیلی جنس رپورٹس میں ایران کی جانب سے یورینیئم کی افزودگی سے متعلق تشویش ناک نتائج آئے تو کیا وہ ایران پر بمباری کرنے پر غور کریں گے۔ اس کے جواب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے اس سطح پر یورینیئم افزودہ کی، جس پر امریکا کو تشویش ہوئی تو وہ بمباری پر بالکل غور کریں گے۔ امریکی صدر نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ ایران میں ایٹمی تنصیبات کو بمباری سے تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کار یا کسی دیگر قابل احترام ادارے کے اہلکار ایران کی ان نیوکلیئر تنصیبات کا معائنہ کریں، جن پر پچھلے ہفتے امریکا نے بمباری کی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت ان سے ملاقات کرنا چاہتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کے اس بیان پر جلد ردعمل دیں گے، جس میں آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ قطر میں امریکی فوج کے اڈے پر حملہ کرکے ایران نے امریکا کے چہرے پر تھپڑ مارا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں اسی تقریب سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا بھی ایک بار پھر کریڈٹ لیا اور جنگ بندی پر دونوں ملکوں کی قیادت کی تعریف کی۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے بھارت اور پاکستان کا معاملہ حل کرنے پر بہت خوشی ہے، پاکستان اور بھارت کے پاس اعلیٰ سطح کے ایٹمی ہتھیار ہیں، ہم نے پاکستان اور بھارت کا معاملہ تجارت کے ذریعے حل کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے تجارتی مذاکرات فوری ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا سے ڈیل کرنا مشکل کام ہے۔ شمالی کوریا کے ساتھ تنازع جلد حل ہو جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ صدارت انتہائی خطرناک عہدہ ہے، پنسلوینیا میں کان پر گولی لگنے کی بعض اوقات یاد دہانی ہوتی ہے۔ بعض اوقات لگتا ہے کہ دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ ایک سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ صدارت خطرناک کام ہے، انہوں نے صدارت کا منہ زور بیل پر سواری اور کار ریس کے ڈرائیورز کو لاحق خطرات سے موازنہ کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ منہ زور بیل پر سواری کرنے اور کار ریس کے ڈرائیورز کے مرنے کا خطرہ ایک فیصد ہوتا ہے جبکہ آپ صدر ہوں تو مرنے کا خطرہ پانچ فیصد ہوتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر کسی نے یہ انہیں پہلے بتایا ہوتا تو شاید صدارت کی دوڑ میں حصہ نہ لیتے۔ واضح رہے کہ امریکا کے 45 میں سے 4 صدور کو قتل کیا گیا جبکہ کئی صدور اور امیدواروں کو گولی ماری گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی صدر

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی