کمیونٹی پولیسنگ کراچی کو کیسے محفوظ بنا رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
کراچی میں کمیونٹی پولیسنگ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کا مقصد سیکیورٹی، ماحولیاتی آلودگی اور گندگی کے مسائل حل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: بہن بھائیوں کا 4 رکنی ڈکیت گروپ پکڑا گیا
ڈپٹی چیف کمیونٹی پولیسنگ کراچی عقیق اقبال کا کہنا ہے کہ کمیونٹی پولیسنگ کراچی مراد علی سوہنی کی قیادت میں قائم کی گئی ہے۔
عقیق اقبال کا کہنا ہے یہ پلیٹ فارم ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جو کراچی کے لیے کچھ کرنا اور اس کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم میں تاجر برادری ہر طبقے ہر مذہب سے لوگ موجود ہیں جو کراچی کو اسٹریٹ کرائم سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ شخصیات کراچی پولیس کو طاقت ور بنانے کے لیے اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس پلیٹ فارم میں کراچی کی تاجر برادری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ اس حوالے سے مزید بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک تھانے میں کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے لے کر کیمروں تک 40 سے 50 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔
مزید پڑھیے: پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا کمیونٹی جسٹس پنچایت بل کیا ہے؟
ایس ایس پی ساؤتھ منظور علی کا کہنا ہے کہ سیف سٹی پروجیکٹ حکومت سندھ کا منصوبہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت سیف سٹی پروجیکٹ آرٹلری میدان، سول لائن اور آرام باغ میں مکمل طور پر فعال ہے۔
منظور علی کے مطابق کراچی میں کمیونٹی پولیسنگ کراچی کی جانب سے بھی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کا پتا لگانا ہو تو کیمرے اس میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کمیونٹی پولیسنگ کراچی کے مانیٹرنگ روم سے جرائم پر کیسے نظر رکھی جاتی ہے؟
اانہوں نے بتایا کہ اے آئی سے کیمرا خود ڈیٹا فیچ کرکے دیتا ہے اور کوئی شخص اگر کرائم میں ملوث ہو تو کیمرا اس کی نشاندہی کرتا ہے۔ مزید تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کراچی کمیونٹی پولیسنگ کمیونٹی پولیسنگ کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کراچی کمیونٹی پولیسنگ کمیونٹی پولیسنگ کراچی کمیونٹی پولیسنگ کراچی کا کہنا ہے کہ کے لیے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔