ایک کروڑ 60 لاکھ نقد اور 40 تولہ سونا چوری کا ڈراپ سین، گھر کی مالکن ہی ماسٹر مائنڈ نکلی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
راولپنڈی:
گھر سے ایک کروڑ 6 لاکھ روپے نقد اور 40 تولہ سونے کی چوری کا معما حل ہوگیا، جس میں گھر کی مالکن خود ہی واردات کی ماسٹر مائنڈ نکلی۔
پولیس کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حقیقت کو بے نقاب کیا گیا، جس میں حیران کن طور پر گھر کی مالکن خود ہی اس چوری کی منصوبہ ساز نکلی، جس نے اپنے ہی ڈرائیور کے ساتھ مل کر واردات کی منصوبہ بندی کی تھی۔
تھانہ ویمن ریس کورس پولیس کے مطابق واردات اس وقت کی گئی جب گھر کے دیگر افراد موجود نہیں تھے۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مالکن نے خود ڈرائیور کو اسلحہ دے کر چوری کروائی۔ ایس ایچ او کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والا پستول بھی خاتون نے خود فراہم کیا، جو بعد ازاں برآمد کر لیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ واردات کے فوراً بعد ملزمہ نے ڈرائیور سے خفیہ جگہ پر ملاقات کی، جہاں اس نے تمام نقدی اور سونا لے لیا اور بعد ازاں ڈرائیور کا نمبر بلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے اعتراف کیا کہ پیسے اور سونے کی لالچ میں اس نے ڈکیتی کا ڈراما رچایا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔
پولیس حکام کے مطابق بروقت کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے کچھ نقد رقم، سونا اور واردات میں استعمال ہونے والا پستول برآمد کر لیا گیا ہے۔ دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
ایس پی سول لائنز نے اس موقع پر کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔