پاکستانی طلبا نے ’اے آئی ٹیکنالوجی کے موثر استعمال‘ پر عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
کراچی:
اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی کے طلبا نے 2025 کے اے پی اے سی سولیوشن چیلنج میں”اے آئی کے بہترین استعمال کا ایوارڈ“ اپنے نام کر لیا ہے
پاکستانی طلبا کی اختراعی صلاحیتیں 2025 کے اے پی اے سی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن فورم میں اُس وقت توجہ کا مرکز بن گئیں جب انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی کے طلبا پر مشتمل ٹیم کو بہترین اے آئی استعمال کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
یہ اعزاز گوگل ڈیویلپرز گروپس اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے زیر اہتمام ہونے والے اے پی اے سی سولیوشن چیلنج میں دیا گیا۔
یہ مقابلہ پورے ایشیا و بحرالکاہل اے پی اے سی کے خطے سے طالبعلموں کی قیادت میں تیار کیے گئے منصوبوں کو یکجا کرتا ہے جنہوں نے گوگل کی اے آئی ٹولز کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کو درپیش اہم اور پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کرنے میں مدد فراہم کی۔
یہ ایوارڈ دراصل اس منصوبے کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جس نے اے آئی ٹیکنولوجیز کو مؤثر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے کمیونٹیز کو درپیش فوری چیلنجوں کا ایک عملی اور متاثرکن حل فراہم کیا ہے۔
طلبا کی ٹیم کو جس میں فائنل ایئر کے طالبعلم احمد اقبال اور سیکنڈ ایئر کے طالبعلم محمد عبداللہ شامل ہیں، یہ اعزاز اُس منصوبے پر دیا گیا جس نے سیٹلائٹ امیجری کو جنیریٹیو اے آئی کے ساتھ مربوط کر کے ماحولیاتی اور جغرافیائی چیلنجوں کا مؤثر حل پیش کیا تھا۔
جغرافیائی معلومات تک رسائی کو ایک جدید لارج لینگوج ماڈل پر مبنی فریم ورک کے ذریعے عام کرنے کا وژن، اس پروجیکٹ کو تمام پیش کردہ تجاویز میں سب سے زیادہ جدید اور مؤثر بناتا ہے۔
اس کامیابی پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے گوگل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ ہمیں بے حد فخر ہے کہ پاکستان کا شاندار ٹیلنٹ اےپی اے سی سولیوشن چیلنج میں جگمگا رہا ہے۔ ہمارے نوجوان ذہنوں نے اپنی اختراعی سوچ اور غیرمعمولی محنت سے دنیا کو درپیش پیچیدہ مسائل کے بہترین حل پیش کیے جن میں جیمنی کا مؤثر استعمال نمایاں ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اے پی اے سی اے آئی
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
فیفا ورلڈکپ 2026 نے باضابطہ طور پر تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں پہلی بار 48 ٹیمیں اور مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی میدان میں اتریں گے۔
12 جون سے شروع ہونے والا یہ میگا ایونٹ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا جو ورلڈکپ کی تاریخ میں پہلی بار تین ممالک میں منعقد ہو رہا ہے۔
اس بار ٹورنامنٹ کا فارمیٹ بھی پہلے سے بالکل مختلف ہے جہاں 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔
مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے جس سے ایونٹ مزید طویل اور سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ورلڈکپ میں شامل 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی عالمی کپ کھیل چکے ہیں جبکہ 891 کھلاڑی پہلی بار اس بڑے اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔
مزید پڑھیںفیفا ورلڈکپ 2026 میں کیا نئی چیزیں متعارف ہوں گی؟
فیفا ورلڈکپ: میسی مسلسل چھٹے ورلڈکپ میں ارجنٹینا کی نمائندگی کیلیے تیار
فٹبال کے بڑے نام ایک بار پھر ایکشن میں ہوں گے جن میں لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور گیلرمو اوچوا شامل ہیں جو چھٹی مرتبہ ورلڈکپ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار چار نئے ممالک کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار ورلڈکپ کا حصہ بن رہے ہیں جس سے مقابلہ مزید غیر متوقع ہو گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس ایونٹ میں سب سے کم عمر کھلاڑی صرف 17 سال کا ہوگا جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کی عمر میں میدان میں اترے گا۔
مجموعی اسکواڈ میں 7 کھلاڑی 40 سال سے زائد عمر کے ہیں جبکہ 22 انڈر 20 پلیئرز بھی اپنی ٹیموں کی نمائندگی کریں گے۔
فیفا ورلڈکپ 2026 نہ صرف تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا ایونٹ بن چکا ہے بلکہ یہ فٹبال کی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔