پنجاب اسمبلی میں توڑ پھوڑ کرنیوالے ارکان پر بھاری جرمانے عائد
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب اسمبلی میں توڑ پھوڑ کے الزام میں 10 ارکان پر بھاری جرمانہ عائد کردیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اسمبلی اجلاس میں مائیک توڑنے والے 10 ارکان پر 20 لاکھ سے زائد کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
جرمانے کی زد میں آنے والے ارکان میں جاوید کوثر، اسد عباس، محمد تنویر اسلم، سید رفعت محمود، محمد اسماعیل، شہباز احمد، امتیاز محمود، خالد زبیر، رانا اورنگزیب اور محمد احسن شامل ہیں۔
مخصوص نشستوں کی بحالی کا فیصلہ؛ کس پارٹی کو کیا ملا
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہےکہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر 2 لاکھ 3550 روپے فی کس جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق 16 جون کے اجلاس میں ویڈیو شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا اور7 روز میں جرمانہ ادا نہ کرنے والے ارکان کیخلاف کارروائی ہوگی۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں توانائی بچت مہم کے تحت کاروباری مراکز کی بندش کے نئے اوقات کار کی منظوری دے دی۔ کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کے بعد انہیں بھی بند کرنا ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ میڈیکل اسٹورز، آئی ٹی کمپنیاں، تندور، جمز اور فیول اسٹیشنز پر ان اوقات کار کی پابندی لاگو نہیں ہوگی اور وہ حسبِ معمول کام جاری رکھ سکیں گے۔ وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی اور بجلی کی بچت کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔