فضل الرحمان کی اپنے ارکان اسمبلی کو 27ویں ترمیم کیخلاف ووٹ دینے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
فضل الرحمان کی اپنے ارکان اسمبلی کو 27ویں ترمیم کیخلاف ووٹ دینے کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 11 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے جے یو آئی کے ممبران قومی اسمبلی کو ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ آئینی ترمیم کے خلاف ووٹ دیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس وقت قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم پیش ہورہی ہے، اس سے قبل پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی اس معاملہ پر مشاورت ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے تمام پہلوئوں پر غور خوض کے بعد جے یو آئی نے اس ترمیم کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے، جے یو آئی کے ممبران قومی اسمبلی اس ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان سے کوئی حملہ ہوا تو فوری جوابی کارروائی ہوگی، افغان حکام کی دھمکی پاکستان سے کوئی حملہ ہوا تو فوری جوابی کارروائی ہوگی، افغان حکام کی دھمکی اگست 2026تک پاکستان کی تمام عدالتیں سولر انرجی پر منتقل کی جائیں گی، چیف جسٹس وانا کیڈٹ کالج پر حملہ، سکیورٹی فورسز نے تمام کیڈٹس کو بحفاظت ریسکیو کر لیا اسلام آباد خودکش دھماکا،فتنہ الخوارج اور افغانستان کی ملی بھگت کے شواہد سامنے آگئے اسلام آباد حملے کے کرداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے، عطا تارڑ خلفائے راشدین بھی عدالتوں میں پیش ہوئے، صدر مملکت مستثنیٰ کیوں؟ حافظ نعیم الرحمنCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فضل الرحمان
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔