اپنے بیان میں جے یو آئی رہنماء مولانا واسع نے کہا کہ حکومت بزدلی سے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بلوچستان میں ریاستی اختیار دفن ہو چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ طالب علم مصور خان کی لاش نے حکومت کے جھوٹے دعووں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ وعدوں، دعووں اور تسلیوں کا انجام ایک لاش کی صورت میں نکلا۔ انصاف مانگنے والوں کو تحفظ نہیں لاشیں دی جا رہی ہیں۔ یہ قتل نہیں، حکومت کی رٹ کا عبرتناک انجام ہے۔ اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اغواء معمول بن چکا ہے۔ حکومت بزدلی سے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بلوچستان میں ریاستی اختیار دفن ہو چکا ہے۔ قاتل دندناتے پھر رہے ہیں۔ عوام خوف میں جی رہے ہیں۔ مصور کے والدین نے بیٹے کی زندگی مانگی تھی۔ حکومت نے لاش تھما دی۔

مولانا واسع نے کہا کہ دھرنے میں وعدے کرنے والے آج فرار اور خاموشی میں چھپے ہیں۔ حکومت نے بارہا خبردار کئے جانے کے باوجود آنکھیں بند رکھیں۔ قانون دفن ہو چکا ہے۔ اب صرف دہشت اور جرم کی حکمرانی ہے۔ جے یو آئی رہنماء نے کہا کہ تاجر، علماء، طلبہ سب جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر ہیں۔ محب وطن ہونا اب جرم بن چکا ہے اور انعام ایک لاش ہے۔ مظلوم کچلے جا رہے ہیں، اور حکومت تماشہ دیکھ رہی ہے۔ جو حکومت شہریوں کو تحفظ نہ دے سکے اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صبر کا پیمانہ چھلک چکا ہے۔ اب جواب دہی کا وقت آ چکا ہے۔ آج مصور کی لاش ملی، کل کسی اور کی باری ہو سکتی ہے۔ یہ لاش صرف مصور کی نہیں، یہ حکومتی مجرمانہ ناکامی کا اعلان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ چکا ہے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان