سندھ میں نیگلیریا سے رواں سال کی چوتھی موت، 17 سالہ طالب علم کو دماغی جرثومے نے مار ڈالا
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
سندھ میں رواں سال دماغ کھانے والے جرثومے نگلیریا فاؤلری کی چوتھی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق سندھ میں رواں سال نگلیریا فاؤلری کے سبب چوتھی ہلاکت رپورٹ ہوگئی،کراچی ضلع وسطی کا 17 سالہ طالبعلم سید علی رضا شاہ دماغ خور جرثومے کا شکار ہوکر جان سے گیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ میں نگلیریا سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے،دماغ خور امیوبا نے ایک اور نوجوان کی جان لے لی۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق کراچی ضلع وسطی کا 17 سالہ طالبعلم سید علی رضا شاہ نگلیریا فاؤلری کا شکار ہو کر انتقال کر گیا، جو صوبے میں رواں برس اس بیماری سے جاں بحق ہونے والا چوتھا مریض ہے۔
محکمہ صحت کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق نوجوان کو 25 جون کو بخار، جسم میں درد اور قے کی علامات کے ساتھ ایک نجی اسپتال لایا گیا، جہاں اگلے روز داخل کر کے اس کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے۔
طبی تجزیوں میں نگلیریا کی تصدیق کے بعد اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا،جہاں وہ آج دوپہر 12 بجے زندگی کی بازی ہار گیا۔
محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان گھریلو استعمال کے لیے آر او فلٹریشن واٹر استعمال کرتا تھا، اوور ہیڈ ٹینک کی صفائی گزشتہ چھ ماہ سے نہیں کی گئی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوجوان نے بیماری سے قبل نہانے، تیراکی یا وضو جیسی کوئی سرگرمی نہیں کی تھی، جو نگلیریا کی روایتی وجوہات میں شمار ہوتی ہیں۔
نگلیریا کے اس کیس کی ابتدائی رپورٹ محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے، جبکہ متاثرہ علاقے میں 29 اور 30 جون کو احتیاطی تدابیر اور صفائی ستھرائی سے متعلق آگاہی سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔