اسرائیل نے غزہ کے متعدد علاقوں میں جبری انخلا کے احکامات جاری کردیے
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے متعدد علاقوں میں رہائشیوں کو جبری انخلا کے نئے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جن علاقوں کے رہائشیوں کو جبری انخلا کے نئے احکامات جاری کئے ہیں ان میں نصیرات، زہراء، مغرقہ کی میونسپلٹیز اور شمالی ساحلی پٹی سمیت النزعہ، البوادی، البسمہ، الزہراء، البساتین، بدر، ابو حریرہ، الروضہ اور الصفاء جیسے محلے شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان اویچائے ادرعی نے ایک پیغام میں کہا کہ آپ کی حفاظت کی خاطر، فوراً جنوب میں واقع علاقے ‘المواسی’ کی طرف نقل مکانی کریں اور ان علاقوں کی طرف واپس نہ آئیں جو لڑائی سے متاثر ہو چکے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج ان علاقوں میں شدید طاقت کے ساتھ کارروائیوں میں مصروف ہے تاکہ حماس کی تنظیمی صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے کیونکہ یہ تمام علاقے راکٹ فائرنگ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ غزہ میں لاکھوں فلسطینی شہری پہلے ہی جبری بے دخلی، شدید بمباری اور انسانی بحران کا شکار ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔