Express News:
2026-07-24@06:44:49 GMT

نئے صوبے تقسیم نہیں بلکہ تعمیرکا ذریعہ ہیں ( پہلا حصہ)

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

پاکستان ایک لسانی و ثقافتی تنوع کا حامل ملک ہے، جہاں مختلف زبانیں بولنے والے لاکھوں لوگ بستے ہیں۔ مردم شماری کے مطابق ملک میں اردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، پشتو، بلوچی، براہوی، ہندکو، شینا، بلتی، کشمیری اور دیگر زبانیں بولنے والی مختلف قومیتیں بستی ہیں۔ یہ تنوع جہاں ایک طرف پاکستان کو ایک ثقافتی قوت بناتا ہے، وہیں دوسری طرف اس لسانی تناسب کے مطابق انتظامی ڈھانچے کی عدم موجودگی ملکی تعمیر و ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب کسی قوم، زبان یا علاقے کو اس کی آبادی، وسائل، ثقافت اور شناخت کے مطابق سیاسی و انتظامی حقوق نہ دیے جائیں تو وہاں احساس محرومی اور پسماندگی جنم لیتی ہے۔ میں نے ہمیشہ ہر سطح پر اس معاملے میں آواز اٹھائی ہے کہ تمام زبان بولنے والوں کو ان کا نہ صرف حق بلکہ سیاسی و سماجی میدان میں بھی ان کی نمایندگی وطن عزیز کو عروج وارتقاء کی جانب گامزن کرے گی۔

میرا تو یہ ماننا ہے کہ نئے صوبے ان زبانوں کو وہ مقام دیں گے جو ان کا حق ہے لوک موسیقی ، علاقائی لباس اور روایات پھر سے زندہ ہوں گی۔ جب ہر صوبہ خود مختار ہوگا، تو وہ دوسرے صوبوں سے ترقی تعلیم ، صحت ، شفاف حکومت اور بنیادی سہولیات میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

اس طرح پورے ملک میں ایک مثبت اور تعمیری مقابلے کی فضا قائم ہوگی، جس سے قومی ترقی کی رفتارکئی گنا تیز ہوگی۔ نئے صوبے اپنے دیہی علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کرسکیں گے۔ جب تعلیم ، صحت، روزگار، سڑکیں صنعتیں اور دیگر سہولیات مقامی سطح پر مہیا ہوں گی تو دیہی عوام کو شہروں کی طرف ہجرت کرنے کی ضرورت نہ رہے گی، یوں شہری آبادی پر بوجھ کم ہوگا اور دیہی معیشت مضبوط ہوگی۔

ہمارے ارباب اختیار اور پالیسی سازوں کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ اس معاملے پر غورکریں۔ میرا تو یہ ماننا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبے صرف انتظامی آسانی کے لیے نہیں بلکہ لسانی و تہذیبی شناخت کے احترام، ترقی کے یکساں مواقعے اور ایک متوازن نظام حکومت کے قیام کے لیے ضرور بننے چاہئیں۔ نئے بننے والے صوبے نہ صرف اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ذریعہ ہوں گے بلکہ ایک مثبت مقابلے کا ماحول بھی پیدا کریں گے۔

ہر صوبہ اپنے بجٹ، ترقیاتی منصوبوں تعلیمی اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے میں دوسرے صوبے سے بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کرے گا اور یہی مقابلہ ترقی کا انجن بنے گا۔ مثال کے طور پر اگر ہر صوبہ اپنے دیہی علاقوں پر توجہ دے گا تو یقیناً وہاں صنعتی یونٹس قائم ہوں گے، زراعت کو جدید بنانے پر توجہ مرکوز ہوگی، صحت و تعلیم کے مراکز قائم کیے جائیں گے، اس طرح دیہی آبادی کو شہروں کی طرف ہجرت کی ضرورت نہیں رہے گی۔

یوں شہری آبادیوں پر دباؤ کم ہوگا اور ایک متوازن ترقی ممکن ہوگی۔ میں نے بارہا کہا اورکہتی ہوں کہ نئے صوبے ملک کی تقسیم نہیں، بلکہ اس کی تعمیر کا ذریعہ ہیں۔ یہ قومی وحدت کوکمزور نہیں کرتے بلکہ مضبوط کرتے ہیں، کیونکہ جب ہر علاقہ خود کو سنا گیا، سمجھا گیا اور تسلیم شدہ محسوس کرے گا، تو وہ خود کو اس وطن کا اہم ستون سمجھے گا۔ جیسا کہ میں نے اپنے کالم کے آغاز میں وطن عزیز میں بسنے والی زبانوں کا ذکر کیا اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو میری رائے کے مطابق ہم لسانی اور جغرافیائی تناسب سے دس بارہ صوبے آسانی سے بنا سکتے ہیں جوکہ ہمارے پالیسی سازوں پر منحصر ہے کہ وہ میری اس تجویز سے کس حد تک متفق ہیں۔

میں بات پنجاب سے شروع کروں گی، میں سمجھتی ہوں کہ جنوبی پنجاب میں ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، لیہ، راجن پور اور مظفرگڑھ، سرائیکی زبان بولنے والوں کا گڑھ ہے۔ ان علاقوں کو طویل عرصے سے ترقیاتی تعلیمی اور انتظامی لحاظ سے نظر اندازکیا گیا، اگر یہاں ایک الگ صوبہ قائم ہو تو مقامی عوام اپنی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کرسکیں گے، مقامی ثقافت اور فن کی سر پرستی ہوگی اور معاشی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات نہ صرف مقامی قیادت بلکہ قومی سطح پر بھی کی جاچکی ہے۔ 2018 کے انتخابات میں کئی پارٹیوں نے اسے منشور کا حصہ بنایا لیکن تا حال عملی اقدامات نہ ہو سکے۔اسی طرح ریاست بہاولپور نے پاکستان سے باقاعدہ الحاق کیا تھا لیکن وقت کے ساتھ اس کی شناخت گم ہوگئی۔ 1955 میں ون یونٹ کے نفاذ کے تحت بہاولپورکو پنجاب میں ضم کردیا گیا، جس پر مقامی عوام نے شدید احتجاج کیا۔

ون یونٹ ختم ہونے کے بعد بھی بہاولپورکو دوبارہ ریاست یا صوبے کا درجہ نہیں دیا گیا۔ مقامی لوگ اپنی تاریخی حیثیت کی بحالی چاہتے ہیں۔ الگ صوبہ بننے کی صورت میں بہاولپور اپنی ثقافت تعلیم، سیاحت ، صنعت و زراعت کے شعبوں میں ایک مثالی ترقی کر سکتا ہے۔

عوام کا موقف ہے کہ اگر گلگت بلتستان اور جنوبی پنجاب کو الگ انتظامی حیثیت دی جاسکتی ہے تو بہاولپور جیسے تاریخی خطے کوکیوں نہیں؟اسی طرح خیبر پختو نخوا کے ہزارہ ڈویژن کی اپنی تہذیبی شناخت ہے، جہاں ہندکو زبان بولی جاتی ہے۔ وہاں کے عوام نہ صرف اپنی لسانی شناخت بلکہ اپنی تہذیب تعلیم ، سیاحت اور ترقی کے بہتر مواقعے کے لیے الگ صوبہ چاہتے ہیں۔

2010 میں خیبر پختونخوا کے نام کی تبدیلی کے بعد وہاں تحریک نے زور پکڑا اور وہ ہر فورم پر اپنے لیے الگ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح جنوبی سندھ کو دیکھیں تو کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص سکھر اور دیگر شہری علاقے سندھ کی وہ اکائیاں ہیں جن کی لسانی و معاشی ساخت دیہی سندھ سے مختلف ہے۔ اردو بولنے والے عوام اکثر اپنے مسائل، اختیارات اور وسائل کی تقسیم میں خود کو نظر انداز شدہ محسوس کرتے ہیں۔

جنوبی سندھ کے ایک علیحدہ صوبے کی تشکیل نہ صرف انتظامی بہتری لائے گی بلکہ شہری علاقوں کو ترقی کی نئی رفتار بھی دے گی۔سابقہ فاٹا (Federally Administered Tribal Areas) پاکستان کے شمال مغرب میں افغانستان کی سرحد پر واقع ایک خود مختار انتظامی خطہ تھا۔ اس میں باجوڑ مہند، خیبر،کرم اورکرتی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان شامل ہیں۔ 2018 میں آئینی ترمیم کے ذریعے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا۔ ضم کرنے کا مقصد ترقی، قانون کا نفاذ اور مرکزی دھارے میں لانا تھا لیکن اس کے باوجود قبائلی عوام میں احساس محرومی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور ثقافتی شناخت کی کمزوری کا تاثر پایا جاتا ہے۔

ان کی قبائلی اقدار میں شتون ولی، جرگہ سسٹم، مہمان نوازی ، غیرت، وفاداری اہم ہیں۔ ان کے ثقافتی رنگوں میں خٹک رقص، پشتو موسیقی، روایتی لباس جیسے عمامہ وچادر میں ہیں۔کتنا ہی خوبصورت نظام ہے ان کا۔ اسی طرح چترال پاکستان کے شمالی سرے پر واقع ہے، جو پہلے ریاست چترال کہلاتی تھی۔     (جاری ہے۔)

(نوٹ۔مضمون نگار سابقہ ایم این اے ہیں۔)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

کلچر کب تہذیب بنتا ہے

سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔

ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔

سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ  سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔

شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔

تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔

ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔

 تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔

آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔

تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن