Islam Times:
2026-06-03@08:18:55 GMT

نیتن، یاہو جنگ اور کرپشن کا کھیل

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

نیتن، یاہو جنگ اور کرپشن کا کھیل

اسلام ٹائمز: ڈونلڈ ٹرمپ، جو خود بھی کرپشن اور توہین عدالت کے بہت زیادہ کیسز کا شکار ہے، نے اس بار صیہونی رژیم کے اندرونی معاملات میں واضح مداخلت کر کے اپنے دیرینہ اتحادی کو گرنے سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں جنگ بندی کی آڑ میں نیتن یاہو کی حمایت کے ذریعے دراصل اپنے ایسے مہرے کو بچانے کی تگ و دو کر رہا ہے جس کا نیو مڈل ایسٹ نامی منصوبے میں بہت ہی اہم اور مرکزی کردار ہے۔ ٹرمپ نیتن یاہو کے خلاف عدالتی کاروائی روک کر ایسا کرپٹ اتحاد مضبوط بنانا چاہتا ہے جو علاقائی بحرانوں کی مدد سے مسلمان اقوام پر اپنا ارادہ مسلط کرنے کے درپے ہے۔ یہ طرز عمل نہ صرف جمہوریت کے دعویداروں کا اصل چہرہ واضح کرتا ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی آشکار کرتا ہے کہ صیہونزم اور وائٹ ہاوس کی نظر میں صرف اپنے مفادات اہم ہیں اور انسانی حقوق اور قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ تحریر: علی احمدی
 
غاصب صیہونی رژیم کے چینل 12 نیز صیہونی اخبار ٹائمز نے فاش کیا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو کا وکیل عمیت حداد کچھ ماہ قبل صیہونی سپریم کورٹ کے سابق سربراہ اہارون باراک کی وساطت سے نیتن یاہو کے خلاف جاری کیسز بند کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ایران سے شکست کے بعد اگرچہ نیتن یاہو کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی اس کی بھرپور حمایت کرنے میں مصروف ہے۔ ٹرمپ صرف ایک سیاسی اتحادی کی حمایت کی خاطر نیتن یاہو کو عدلیہ کی جانب سے درپیش دباو سے نجات دلوانے کے درپے نہیں بلکہ وہ مشرق وسطی خطے میں اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے نیتن یاہو کا وجود ضروری سمجھتا ہے۔ یہ اہداف غزہ میں جنگ ختم کرنے، صیہونی یرغمالیوں کو آزاد کروانے اور سب سے اہم یہ کہ اسرائیل اور عرب ممالک میں سازباز کا دائرہ بڑھانے پر مشتمل ہیں۔
 
ٹرمپ کا عقیدہ ہے کہ نیتن یاہو کا اقتدار میں باقی رہنا، مشرق وسطی میں مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اسے مشرق وسطی خطے میں امریکی مہرہ سمجھتا ہے۔ دوسری طرف 75 سالہ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو عدلیہ کی جانب سے تین بڑے کیسز سے روبرو ہے جو فراڈ، عوام کے اعتماد کا غلط استعمال اور رشوت لینے جیسے الزامات پر مشتمل ہیں۔ یہ کیسز گذشتہ چند سالوں کے دوران صیہونی رژیم کے اعلی ترین حکومتی حلقوں میں کرپشن کی علامت بن چکے ہیں اور ان میں صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو پر سنگین قسم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں گراں قیمت تحائف وصول کرنا اور سیاسی اختیارات کا غلط استعمال شامل ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایکس پر ایک لمبا پیغام جاری کیا جس میں نیتن یاہو کے خلاف کیس چلانے والی عدالت کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے گئے۔
 
ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے خلاف عدالتی کاروائی پر سخت تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف حالیہ جنگ میں نیتن یاہو کے اقدامات کو سراہا۔ یاد رہے یہ جنگ کچھ ہی دن پہلے اسرائیل کی واضح شکست اور اس کی طرف سے جنگ بندی پر ختم ہوئی ہے۔ ایسے وقت جب کچھ رپورٹس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو جانے کی بات کی جا رہی ہے، صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایکس پر ایک پیغام جاری کیا جس میں امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا گیا۔ نیتن یاہو نے لکھا کہ "میں اپنی، اسرائیل اور یہودی قوم کی حمایت پر ٹرمپ کا شکرگزار ہوں"۔ صیہونی وزیراعظم نے مزید لکھا: "میں پورے شوق سے اپنے مشترکہ دشمنوں کو شکست دینے، اپنے یرغمالیوں کو آزاد کروانے اور امن کا دائرہ وسیع کرنے میں آپ سے تعاون جاری رکھوں گا۔"
 
وائٹ ہاوس کی جانب سے صیہونی وزیراعظم کی بھرپور حمایت کے باوجود صیہونی رژیم کے چند اعلی سطحی اپوزیشن لیڈران نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف جاری عدالتی کاروائی میں مداخلت پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ صیہونی اپوزیشن لیڈر، یائیر لاپید نے ٹرمپ کی جانب سے عدالتی کاروائی میں مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "یوں دکھائی دیتا ہے کہ امریکی صدر نیتن یاہو کی حمایت ظاہر کر کے دراصل اسے پر دباو ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ گذشتہ 20 ماہ سے جاری غزہ جنگ کی جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں نرمی دکھائے"۔ اسی طرح صیہونی کینسٹ کے رکن گیلاد کاریو نے بھی یہودی تعلیمات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "یہودی روایات ہمیں سکھاتی ہیں کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، حتی وزیراعظم"۔
 
صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف عدالتی کاروائی مئی 2020ء میں شروع ہوئی تھی جو اب تک کئی بار تعطل کا شکار ہوئی ہے۔ نیتن یاہو نے غزہ جنگ کے بہانے اس کاروائی میں تاخیر کے لیے کئی بار درخواست دی ہے۔ جمعرات کے دن نیتن یاہو کے وکیل عمیت حداد نے اعلان کیا ہے کہ "علاقائی اور عالمی حالات" کے باعث عدالت میں ان کے موکل کی پیشی مزید دو ہفتے تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔ اگرچہ نیتن یاہو کی ٹیم مظلوم نمائی میں مصروف ہے لیکن ریڈیو صیہونی فوج نے رپورٹ دی ہے کہ اٹارنی جنرل نے نیتن یاہو کی جانب سے اپنی پیشی دو ہفتے موخر کر دینے کی درخواست کی مخالفت کی ہے۔ صیہونی صدر اسحاق ہرتزوگ نے بھی اعلان کیا ہے کہ اسے نیتن یاہو کو معاف کر دینے کا حق حاصل ہے لیکن ذرائع ابلاغ کے بقول صدر ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
 
ڈونلڈ ٹرمپ، جو خود بھی کرپشن اور توہین عدالت کے بہت زیادہ کیسز کا شکار ہے، نے اس بار صیہونی رژیم کے اندرونی معاملات میں واضح مداخلت کر کے اپنے دیرینہ اتحادی کو گرنے سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں جنگ بندی کی آڑ میں نیتن یاہو کی حمایت کے ذریعے دراصل اپنے ایسے مہرے کو بچانے کی تگ و دو کر رہا ہے جس کا نیو مڈل ایسٹ نامی منصوبے میں بہت ہی اہم اور مرکزی کردار ہے۔ ٹرمپ نیتن یاہو کے خلاف عدالتی کاروائی روک کر ایسا کرپٹ اتحاد مضبوط بنانا چاہتا ہے جو علاقائی بحرانوں کی مدد سے مسلمان اقوام پر اپنا ارادہ مسلط کرنے کے درپے ہے۔ یہ طرز عمل نہ صرف جمہوریت کے دعویداروں کا اصل چہرہ واضح کرتا ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی آشکار کرتا ہے کہ صیہونزم اور وائٹ ہاوس کی نظر میں صرف اپنے مفادات اہم ہیں اور انسانی حقوق اور قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی وزیراعظم صیہونی رژیم کے میں نیتن یاہو نیتن یاہو کی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بچانے کی کی حمایت کرتا ہے کا شکار کے لیے کیا ہے

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ 2026 میں نافذ کیے جانے والے نئے قوانین کیا ہیں؟
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان