Express News:
2026-07-24@09:58:56 GMT

ناامیدی کے سائے

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

تحریک انصاف اس وقت شدید صدمہ میں ہے۔ مخصوص نشستوں کے فیصلے نے پارٹی میں امید کی تمام شمعیں بجھا دی ہیں۔ انھیں مستقبل اچھا نظر نہیں آرہا۔ اگر میں غلط نہیں تو ناامیدی کا سفر آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے شروع ہوا اور مخصوص نشستوں کے فیصلے نے اس کو انتہا تک پہنچا دیا۔ یہ سب اتنا جلد ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ کیاکریں۔

پہلے جب تحریک انصاف کے دوستوں سے بات ہوتی تھی تو انھیں حالات کے بدلنے کی امید تھی۔ ابھی عید سے پہلے ملک کے سنیئر تجزیہ نگار ہمیں یہ خبریں بتا رہے تھے کہ کپتان اور اسٹبلشمنٹ کی بات طے ہو گئی ہے۔ عید سے پہلے کپتان رہا ہو جائے گا۔ لوگ رہائی کی تاریخیں دے رہے تھے۔ لیکن عید سے پہلے رہائی نہیں ہوئی۔ پھر بھی امید ختم نہیں ہوئی۔ رہائی کی اگلی تاریخیں آگئیں۔

آرمی چیف کے دورہ امریکا سے پہلے تک امید قائم تھی۔ ایک امید تھی کہ امریکا سے کچھ ہوگا۔ امریکی کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹ آرہے تھے۔ ایک ڈیموکریسی ایکٹ کی گونج تھی۔ امریکا کی تحریک انصاف نے ایک تاثر قائم کیا ہوا تھا کہ کچھ ہوگا اور بڑا ہوگا۔ امریکی ڈاکٹروں کے دورہ پاکستان کی خبریں بھی تھیں۔ ان کی کپتان سے ملاقات کی خبریں بھی آئیں۔امریکی ڈاکٹرز بھی ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا حصہ نظر آرہے تھے۔ وہ بھی امید کی باتیں کر رہے تھے کہ اسٹبلشمنٹ اور کپتان کے درمیان بات چیت اچھی جا رہی ہے۔ بات طے ہو رہی ہے۔ لیکن کچھ ہوا نہیں۔

میری رائے میں تحریک انصاف اوور سیز اور تحرک انصاف کے سوشل میڈیا نے اپنے لوگوں میں امید قائم رکھی ہوئی تھی۔ جو اب ٹوٹتی نظر آرہی ہے۔ سونے پر سہاگا ، کے پی اسمبلی نے بجٹ پاس کر دیا۔ کے پی کے بجٹ پاس ہونے سے تو تحریک انصاف میں ایسا ہوا ہے جیسے کسی کو شکست فاش ہو گئی ہو۔ حالانکہ میری رائے میں بجٹ کوئی گیم چینجر نہیں تھا۔

بجٹ میں کیا ہو سکتا تھا۔ اگر عمران خان سے ملاقات ہو بھی جاتی تو کیا ہوتا، وہ آئی ایم ایف کی ڈیل خراب کرنے کا کہہ دیتے۔ بجٹ سرپلس ختم کرا دیتے۔ اور کیا کر سکتے تھے۔ بجٹ پاس کرنے سے روک تو نہیں سکتے تھے۔ لیکن ایک طرف مرکزی حکومت نے ملاقات ہی نہیں کرائی۔ دوسری طرف کے پی کی حکومت نے بجٹ پاس کر لیا۔ میری رائے میں کچھ خاص فرق نہیں پڑا۔ لیکن امید توڑنے میں اس کا بھی بڑ اکردار ہے۔

کپتان کی بہن علیمہ خان نے خود ہی کہہ دیا کہ لگتا ہے کہ خان مائنس ہو گیا ہے۔ جو بات منوانے کے لیے اتنا زور لگ رہا تھا، وہ اتنی آسانی مان لی گئی۔ اس نے بھی تحریک انصاف کے کارکن کو کافی ناامید کیا ہے۔ تحریک انصاف کے اندر یہ بحث گرم ہے کہ شاید بجٹ پاس کرنے سے اتنا نقصان نہیں ہوا تھا، جتنا علیمہ کے بیان سے ہو گیا ہے۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ جب ہم نے خود ہی تسلیم کر لیا ہے کہ خان مائنس ہوگیا ہے تو ہم اپنے کارکن کو اب کیسے یقین دلائیں گے کہ خان مائنس نہیں ہوا۔ ساری لڑائی ہی یہی تھی، ہم نے خود ہی شکست تسلیم کر لی ہے اور مخالفین کی فتح کا اعلان کر دیا ہے۔ بہر حال تحریک انصاف کے اندر نا امیدی کا ایک طوفان ہے۔ار کان پارلیمان بھی مایوس ہیں۔ یہ درست ہے کہ ووٹ بینک کی طاقت ارکان پارلیمنٹ کو باندھ کر رکھتی ہے۔

لوگ ووٹ بینک کی وجہ سے سیاسی جماعت کے ساتھ برے وقت میں بھی کھڑے رہتے ہیں۔ لیکن آج تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ اپنے مستبقل کے حوالے سے پریشان ہیں۔ انھیں اپنی جماعت کا مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے۔ اگرحالات ایسے ہی رہے تو پانچ سال گزارنے بہت مشکل ہیں اور اگلا الیکشن اور بھی برا ہوگا۔ اس لیے وہ سوچ رہے ہیں کہ اپنی سیاست کو آگے کیا شکل دی جائے؟ کہاں کا رخ کیا جائے؟

میں ان ارکان کی بات کر رہا ہوں جو میڈیا پر کم نظر آتے ہیں۔ لیکن سیاست کرتے ہیں۔ وہ انتخابی حلقوں کی سیاست کرتے ہیں۔ وہ سیاسی جماعتیں حالات اور واقعات کے مناسبت سے بدلتے رہتے ہیں۔ وہ سیاسی حالات دیکھ کر اپنا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہم انھیں سیاسی پنچھی بھی کہتے ہیں۔ جو اکثر اڑ جاتے ہیں۔ اب ان کے اڑنے کا موسم نظر آرہا ہے۔

پی ٹی آئی کے کئی ارکان پارلیمنٹ حکومت اور اسٹبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں۔ ان کے رابطوں کی کافی جگہ سے تصدیق ہوتی ہے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہوگا کیونکہ گیم کپتان کے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔ وہ نجی محفلوں میں بات کرتے ہیں کہ اب کھیل ختم ہو گیا ہے۔ اس لیے اب سب انفرادی طو رپر اپنا راستہ نکالنے کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ اکیلے اکیلے بات کر رپے ہیں۔

الیکشن کے بعد تحریک انصاف کی، کے پی حکومت کی طرف تحریک انصاف کے ارکان اور کارکنان ایک امید سے دیکھتے تھے۔ وہ امید کی شمع تھی۔ لیکن اب کے پی کی حکومت کی طرف ناامیدی سے دیکھتے ہیں۔ پہلے کے پی کی حکومت مسائل کا حل نظر آرہی تھی۔اب مسائل کی وجہ نظر آرہی ہے۔ کے پی حکومت ایک سیاسی بوجھ بن گئی ہے۔

شاید اب تحریک انصاف میں اس سیاسی بوجھ کو اٹھانے کی بھی ہمت نہیں۔ اس لیے وہاں سے بھی نا امیدی ہی نظر آرہی ہے۔ گنڈا پور پہلے ہیرو تھا۔ لیکن اب زیرو بن چکا ہے۔ اس کی پارٹی کارکنان میں مقبولیت ختم ہو گئی ہے۔ پنجاب کے ارکان بھی اس سے نا امید۔ چند رہنما جنھوں نے کے پی میں پناہ لی ہوئی ہے۔ باقی سب سمجھتے ہیں کہ کے پی کی حکومت مسائل کا حل کرنے میںناکام رہی ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے میں باہر سے بھی کوئی امید نہیں۔ ہر حربہ ناکام ہو گیا ہے۔ لوگوں نے ذہنی طورپر شکست مان لی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تحریک انصاف کے کے پی کی حکومت بجٹ پاس کر ہو گیا ہے نظر ا رہی کے ارکان کرتے ہیں ا رہی ہے رہے تھے امید کی سے پہلے بات کر ہیں کہ لیکن ا گئی ہے

پڑھیں:

نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟

فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔

یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔

دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی