وزیر خزانہ کی سیول کانفرنس میں شرکت، ’’اُڑان پاکستان‘‘ منصوبے کا ذکر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے سپین کے شہر سیویل میں جاری چوتھی بین الاقوامی کانفرنس برائے فنانسنگ فار ڈویلپمنٹ کے افتتاحی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اس عالمی کانفرنس کا مقصد پائیدار ترقی کے لیے درکار مالی وسائل کی بڑھتی ہوئی کمی کا حل تلاش کرنا اور مختلف ممالک کو اپنی ترجیحات، توقعات اور اقدامات پیش کرنے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ کانفرنس کے پلینری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر اورنگزیب نے پاکستان کے معاشی چیلنجز، اصلاحاتی اقدامات اور ترقیاتی ترجیحات پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی مالیاتی نظام میں فوری اور مربوط اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ انصاف، یکجہتی اور شمولیت جیسے اصولوں پر مبنی ایک متوازن نظام تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو درپیش مسائل کی سنگینی کی طرف توجہ دلائی، جن میں قرضوں کے بڑھتے بوجھ، موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات اور ترقی میں حاصل شدہ کامیابیوں کے زیاں جیسے عوامل شامل ہیں، جو پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔وزیر خزانہ نے ‘’ اعلامیے میں کی گئی عملی تجاویز کو سراہا، جن میں مقامی وسائل کے حصول میں دو گنا اضافہ، امداد میں کٹوتی کی واپسی، جی ڈی پی سے ہٹ کر نئے پیمانوں کے ذریعے سستی مالی معاونت کی فراہمی، کثیرالطرفہ مالیاتی اداروں کی قرض دینے کی صلاحیت میں اضافہ، مقامی کرنسی میں قرضوں کی توسیع، اور غیر استعمال شدہ سپیشل ڈرائنگ رائٹس (SDRs) کو نئے ڈھانچے کے تحت استعمال کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ ان وعدوں پر جلد از جلد خاص طور پر قرضوں کے نظام میں اصلاحات کے شعبے میں عمل درآمد کیا جائے، انہوں نے اقوامِ متحدہ کے زیر نگرانی ایک نیا بین الحکومتی عمل شروع کرنے کی بھی تجویز دی تاکہ موجودہ عالمی قرضہ نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے عالمی مندوبین کو بتایا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں کورونا وبا اور موسمیاتی آفات جیسے شدید بیرونی جھٹکوں کے باوجود بھرپور اندرونی اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے ‘اْڑان پاکستان’ کے عنوان سے پانچ سالہ قومی معاشی منصوبے کا ذکر کیا، جو برآمدات، ڈیجیٹل معیشت ، ماحولیات، توانائی و انفراسٹرکچر اور مساوات کے ستونوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بہتر مالی نظم و ضبط، مہنگائی میں کمی اور قرض کے حجم میں کمی کے ذریعے اقتصادی استحکام حاصل کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغز جمہوریہ کے خوبصورت شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے علاقائی امن، استحکام، رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار نے اجلاس کی میزبانی پر کرغز قیادت اور وزیر خارجہ ژین بیک کولوبایف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شاندار انتظامات کو سراہا۔
https://x.com/ForeignOfficePk/status/2080577745026007042
اپنے خطاب میں نائب وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کی 25ویں سالگرہ پر رکن ممالک کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ایس سی او گزشتہ پچیس برس کے دوران خطے میں امن، سلامتی، خوشحالی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون، روابط اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن میں اسلام آباد مذاکرات اور اس کے نتیجے میں طے پانے والا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیںمسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، اسحاق ڈار کا آسیان فورم سے خطاب
انہوں نے اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔
وزیر خارجہ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ پاکستان ستمبر 2026 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی سربراہی سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے تمام رکن ممالک کو 2027 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں