اسلام کوٹ سے چھور تک ریلوے لائن بچھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)تھر کے کوئلے کو پورٹ قاسم کراچی تک پہنچانے کے لیے اسلام کوٹ سے چھور اور بن قاسم اسٹیشن سے پورٹ قاسم تک ریلوے لائن بچھائی جائے گی۔ تھر کے کوئلے کو پورٹ قاسم کراچی پہنچانے کے لیے ریلوے لائن بچھائی جائے گی، اسلام کوٹ سے چھور اور بن قاسم ریلوے اسٹیشن سے پورٹ قاسم تک ریلوے لائن بچھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔محکمہ توانائی سندھ اور ریلوے اس مشترکہ منصوبے کو تکمیل تک پہنچائیں گے، اس حوالے سے محکمہ
توانائی نے وزیراعلیٰ کو سمری ارسال کر دی ہے۔تھرکول فیلڈ اسلام کوٹ سے چھور تک 105 کلومیٹر ریلوے لائن بچھائی جائے گی، بن قاسم اسٹیشن سے پورٹ قاسم تک 9 کلومیٹر ریلوے لائن بچھائی جائے گی۔بیرون ملک برآمد کے لیے تھر کا کوئلہ پورٹ قاسم پر اتارا جائے گا، منصوبے کا مالیاتی تخمینہ 75 ارب روپے ہے، ریلوے اور محکمہ توانائی کی 50 – 50 فیصد سرمایہ کاری سے اسے مکمل کیا جائے گا۔ریلوے ٹریک تک رسائی اور کوئلہ اتارنے کا منافع بھی برابر تقسیم ہوگا، ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ 2 سال میں مکمل کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پورٹ قاسم
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔