ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی سطح پر کامیابیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے کئی سنگین تنازعات کامیابی سے حل کیے ہیں۔

مسک کا یہ بیان ایکس (سابق ٹوئٹر) پر سامنے آیا، جسے سیاسی حلقے صدر ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے تناظر میں خاص اہمیت دے رہے ہیں۔ ایلون مسک نے اپنے پیغام میں کہا کہ جس کا کریڈٹ بنتا ہے، اُسے دینا چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر میں کئی سنگین تنازعات کامیابی سے حل کیے۔

Credit where credit is due.

@realDonaldTrump has successfully resolved several serious conflicts around the world. pic.twitter.com/0EyHHy5Gfo

— Elon Musk (@elonmusk) July 2, 2025

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک ریلی میں ایلون مسک پر شدید تنقید کرتے ہوئے نہ صرف ان کے کاروبار کو ملنے والی اربوں ڈالر کی سبسڈی ختم کرنے کی بات کی، بلکہ طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ اگر وہ میرے ساتھ مخاصمت رکھتا ہے، تو اُسے جنوبی افریقہ واپس بھیج دینا چاہیے۔

مزید پڑھیں: ’سبسڈی نہ ملی تو واپس جنوبی افریقہ چلے جائیں گے‘، ٹرمپ کی ایلون مسک کو دھمکی

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ سخت لب و لہجہ اور پھر اس کے فوراً بعد ایلون مسک کا ‘تعریفی’ پیغام ایک واضح اشارہ ہے کہ مسک نے سیاسی و کاروباری دباؤ کے پیش نظر مفاہمت کا راستہ چنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپیس ایکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایلون مسک ٹیسلا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپیس ایکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایلون مسک ٹیسلا ڈونلڈ ٹرمپ ایلون مسک ٹرمپ کی

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف پہلے یہ بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟ شرجیل میمن کا ردعمل
  • ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی