Daily Mumtaz:
2026-07-24@08:23:41 GMT

مائیکروسافٹ کا ہزاروں ملازمین کی برطرفی کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT

مائیکروسافٹ کا ہزاروں ملازمین کی برطرفی کا اعلان

عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے دنیا بھر سے تقریباً 9 ہزار ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کا اعلان کر دیا، جو 2023ء کے بعد کمپنی کی سب سے بڑی برطرفی تصور کی جا رہی ہے۔

کمپنی کے ترجمان کے مطابق اس اقدام کا مقصد تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں کمپنی کو مزید مؤثر، چست اور جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، یہ برطرفیاں مائیکروسافٹ کی مجموعی عالمی افرادی قوت کا تقریباً 4 فیصد حصہ بنتی ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یہ فیصلہ 2 جولائی 2025ء کو کیا گیا اور یہ حالیہ مہینوں کے دوران کمپنی کی جانب سے کی جانے والی تیسری مرحلہ وار چھانٹی ہے۔

مایکروسافٹ کے ترجمان نے کہا کہ ہم تنظیمی تبدیلیاں لا رہے ہیں تاکہ کمپنی اور اس کی ٹیمیں جدید، متحرک اور مسابقتی مارکیٹ میں زیادہ بہتر طور پر کامیاب ہو سکیں۔

مائیکروسافٹ کے گیمنگ ڈویژن کے سی ای او فِل اسپینسر نے اپنے شعبے کے ملازمین کو بھیجے گئے ایک میمو میں لکھا کہ گیمنگ کے شعبے میں دیرپا کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہم مخصوص علاقوں میں کام کو محدود کریں یا بند کر دیں اور انتظامی سطحوں کو کم کر کے چُستی اور کارکردگی کو بڑھائیں۔

مائیکروسافٹ کی جانب سے اس بڑے پیمانے پر عملے کو کم کرنے کا ایک اہم سبب کمپنی میں مصنوعی ذہانت (AI) کا تیزی سے بڑھتا ہوا استعمال بھی ہے۔

کمپنی کے سی ای او ستیہ نڈیلا پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ مائیکروسافٹ کا تقریباً 20 سے 30 فیصد سافٹ ویئر کوڈ اب AI کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مائیکروسافٹ AI انفراسٹرکچر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں کمپنی کی کارکردگی مزید بڑھائی جا سکے۔

مائیکروسافٹ کے علاوہ، گوگل، ایمازون، میٹا اور دیگر بڑی ٹیک کمپنیاں بھی حالیہ مہینوں میں ہزاروں ملازمین کو فارغ کر چکی ہیں، یہ سب کمپنیاں اپنے آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانے اور AI ٹیکنالوجیز کے ذریعے خودکاری نظام اپنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مائیکروسافٹ کی حالیہ برطرفیاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیاں اب روایتی ڈھانچے سے نکل کر کم افراد پر مشتمل ٹیکنالوجی پر مبنی ماڈلز کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جہاں کمپنیوں کے لیے یہ فیصلے مستقبل کی تیاری کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ مائیکروسافٹ نے 2023ء میں بھی 10 ہزار ملازمین کو برطرف کیا تھا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ملازمین کو

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم