مائیکروسوفٹ کا پاکستان میں کاروبار بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
مائیکروسوفٹ نے پاکستان میں اپنا آپریشن بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس سے ملک میں عالمی ٹیک کمپنی کے 25 سالہ باب کا خاتمہ ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مائیکروسافٹ کی گولڈن جوبلی تقریب، ملازمین کا فلسطین کے حق میں احتجاج، ویڈیو وائرل
بلومبرگ کے مطابق بانی کنٹری منیجر جواد رحمان نے باہر نکلنے کی تعریف ایک دور کے خاتمے کے طور پر کی ہے۔ انہوں نے 7 سال تک کمپنی کی مقامی کوششوں کی قیادت کی اور ٹیم بنانے، صارفین کی خدمت کرنے اور پورے پاکستان میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو وسعت دینے میں مدد کی۔
جواد رحمان نے کہا کہ وہ محض ایک جاب نہیں تھی بلکہ ان کی خواہش کے عین مطابق ایک کام تھا جس کے دوران لوگوں کو ترقی دینے، شراکت داری قائم کرنے، اعتماد حاصل کرنے اور پاکستان کی نوجوان نسل کے لیے مواقع پیدا کرنے کا بھی موقع ملا۔
مزید پڑھیے: اسرائیلی فوج کو اے آئی اور کلاؤڈ سروسز دینے کے خلاف مائیکروسافٹ کے احتجاجی ملازمین نوکری سے برخاست
پاکستان میں اپنے دور میں مائیکروسوفٹ نے دور دراز کے علاقوں میں سینکڑوں کمپیوٹر لیبز بنائیں۔
میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ ملازمین کو ابھی حال ہی میں باضابطہ طور پر مطلع کردیا گیا ہے کہ کمپنی پاکستان میں اپنے کاموں کو مکمل طور پر ختم کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان میں مائیکروسوفٹ مائیکروسوفٹ مائیکروسوفٹ پاکستان سے باہر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان میں
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔