اپوزیشن کے پاس جس دن بھی ایک ممبر زیادہ ہو تو تحریک عدم اعتماد لاسکتے ہیں، گورنر کے پی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہے, اپوزیشن کے پاس جس دن بھی ایک ممبر زیادہ ہو تو تحریک عدم اعتماد لاسکتے ہیں۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر کے پی کا کہنا تھا کہ خیبرپختون خوا اسمبلی میں اپوزیشن کے پاس 52 یا 54 ارکان ہوچکے ہیں، جس دن خیبر پختون خوا اسمبلی میں ہمارا ایک بھی رکن زیادہ ہوا تو ہمارا جمہوری حق ہے کہ عدم اعتماد لے کر آئیں۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ جلد پی ٹی آئی کارکنان یوم نجات منائیں گے، ہم نہیں چاہتے کہ وزیر اعلیٰ کے پی بےروزگار ہو اور سیاست چھوڑ دیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ گورنر کے پی کونسلر کی سیٹ بھی جیت نہیں سکتے۔
گورنر کے پی نے مزید کہا کہ علیمہ خان تو مائنس بانی پی ٹی آئی بھی کہہ چکی ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ڈائیلاگ ہم پہلے بھی سنتےتھےجب عدم اعتماد کامیاب ہوا وہ سب کے سامنے تھا، اگر پی ٹی آئی کے پاس وفاق، پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں زیادہ ارکان ہیں تو وہ عدم اعتماد لے آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا گورنر کے پی نے کہا کہا کہ کے پاس
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔