لاہور میں دیوار پھلانگ کر راہ گیر بچوں اور خاتون پر شیر کا حملہ، فوٹیج سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
لاہور: جوہر ٹاؤن کے علاقے شاہ دی کھوئی میں قائم فارم ہاؤس کا شیر دیوار پھلانگ کر گلی میں کودا اور راہ گیر خاتون و بچے پر حملہ کیا، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے۔
پولیس کے مطابق شیر کا جنگلہ کھلا رہا گیا تھا جس کے باعث وہ باہر نکلا اور دیوار پھلانگ کر گلی میں کودا، جس کے بعد اُس نے پہلے راہ گیر خاتون اور پھر دو بچوں پر حملہ کیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچی جس کے بعد وائلڈ لائف حکام نے شیر کو قابو کیا۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے دو بچوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ خاتون کو معمولی زخم آئے ہیں۔
ترجمان وائلڈ لائف کے مطابق مالک نے بغیر اجازت اور لائسنس کے شیر رکھا ہوا تھا اور واقعے کے بعد سے وہ فرار ہے۔
وائلڈ لائف حکام کے مطابق اچانک شیر ڈیرے سے باہر آگیا، جس کو وہ لیکر موقع پر فرار ہوگیا ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کی اسپیشل ٹیمیں شیر کی برآمدگی اور اس کے مالک کی گرفتاری کے لیے شاہ دی کھوئی اور دیگر مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں جبکہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کاروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وائلڈ لائف کے مطابق
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔