برطانیہ کا شام کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
دورۂ شام میں دارالحکومت دمشق میں موجود برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا کہ برطانیہ شام کے ساتھ تعلقات بحال کر رہا ہے، شام کی نئی حکومت کی حمایت کرنا برطانیہ کے مفاد میں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ برطانیہ نے شام کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا اعلان کردیا۔ دورۂ شام میں دارالحکومت دمشق میں موجود برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا کہ برطانیہ شام کے ساتھ تعلقات بحال کر رہا ہے، شام کی نئی حکومت کی حمایت کرنا برطانیہ کے مفاد میں ہے۔ برطانیہ نے شام کی مدد کے لیے 94 ملین پاؤنڈ دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ خیال رہے کہ کسی بھی برطانوی وزیر کا 14 سال بعد یہ پہلا دورہ شام ہے، شام میں 2011ء کی خانہ جنگی کے بعد برطانیہ نے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی شام کے بعد کویت کا دورہ بھی کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شام کے ساتھ تعلقات بحال برطانوی وزیر
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔