دوران نماز اپنے خطاب میں ترجمان آئی ایس او کراچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا، اور جو بھی حکومت ایسا قدم اٹھائے گی وہ قوم کے جذبات سے کھیلنے کی مرتکب ہوگی، موجودہ حکومتی نمائندے جتنی بھی کوشش کرلیں ہم اسرائیل کو قبول کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ریجن کے زیر اہتمام 9 محرم الحرام کو مرکزی جلوس کے دوران نماز باجماعت کا اہتمام کیا گیا، جس کی امامت حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا شیخ محمد صادق جعفری نے کی۔ دورانِ نماز خطاب کرتے ہوئے ترجمان آئی ایس او نے کہا کہ کربلا فقط اسلامی تاریخ کا باب نہیں بلکہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے والا واقعہ ہے، جس نے آسمان و زمین، سورج و قمر کو خون کے آنسو رلا دیئے، امام حسینؑ کا پیغام تمام مظلوموں کے لیے قیامت تک ایک عملی منشور ہے، کربلا کا درس امر بالمعروف اور ظلم کے خلاف قیام آج کے دور میں بھی ایک زندہ تحریک ہے اور یہی وہ اصول ہیں جنہوں نے رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران کو عالمی استعمار کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر رہبر معظم کو کوئی نقصان پہنچا تو پاکستان میں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانے محفوظ نہیں رہیں گے۔

انہوں نے فلسطین، لبنان، یمن اور ایران کی مظلوم عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج فلسطینی بچے صیہونی درندوں کے سامنے سینہ سپر ہیں تو وہی جذبہ ہے جو کربلا سے چلا تھا۔ انہوں نے پاکستانی عوام، شیعہ و سنی شہریوں اور حریت پسند غیر مسلموں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے کھل کر فلسطین اور ایران کے حق میں آواز بلند کی۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا، اور جو بھی حکومت ایسا قدم اٹھائے گی وہ قوم کے جذبات سے کھیلنے کی مرتکب ہوگی، موجودہ حکومتی نمائندے جتنی بھی کوشش کرلیں ہم اسرائیل کو قبول کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاراچنار میں دہشتگردی کے تسلسل، اربعین واک پر پابندی اور سبیلوں پر رکاوٹوں پر حکومت کو جواب دینا ہوگا کس کے ایما پر یہ سب ہورہا ہے۔

شیعہ لاپتہ عزاداران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ کہ گزشتہ 10 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے کہ شیعہ جوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کردیا جاتا ہے، حالات یہ ہیں کہ ان جوانوں کے والدین اپنے پیاروں کا انتظار کرتے ہوئے اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے لیکن انکے بچے گھر کو نہ آسکے، ہم ریاستی اداروں سے گزارش کرتے ہیں کہ اگر کسی کا کوئی جرم ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر انکا کوئی قصور نہیں ہے تو انکا فی الفور رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں یوم حسینؑ جیسے پرامن پروگرامات پر پابندی دراصل فرقہ وارانہ ذہنیت کی عکاسی ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ نماز کے اختتام پر امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے پرچم نذر آتش کر کے مظلوم اقوام سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیل کو کرتے ہوئے نے کہا کہ کیا جائے انہوں نے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر سردار ایاز صادق کی اصلاحاتی پالیسیوں سے قومی اسمبلی کے اخراجات میں نمایاں کمی
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا