مودی سرکار کی ناقص پالیسیاں‘ 25کروڑ مزدوروں کا ملک گیر ہڑتال کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں مودی حکومت کی مزدور دشمن اور کارپوریٹ نواز پالیسیوں کے خلاف ایک بار پھر ملک گیر سطح پر احتجاجی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ بینکاری، انشورنس، ڈاک، کوئلہ کان کنی، ٹرانسپورٹ اور دیگر کئی شعبوں سے تعلق رکھنے والے 25 کروڑ سے زائد مزدور بدھ کو ملک گیر ہڑتال میں شریک ہونے کا اعلان کیا ہے، جسے مزدور تنظیموں نے ’’بھارت بند‘‘ کا نام دیا ہے۔یہ ہڑتال بھارت کی 10 مرکزی ٹریڈ یونینز کے مشترکہ فورم کے تحت دی گئی کال پر ہو رہی ہے، جنہوں نے مودی کی مرکزی حکومت پر ’’مزدور دشمن، کسان دشمن اور قوم دشمن
پالیسیاں‘‘ اپنانے کا الزام لگایا ہے۔آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (AITUC) کی جنرل سیکرٹری امرجیت کور نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ ’مہینوں سے جاری بھرپور تیاریوں کے بعد ملک بھر میں ہڑتال ہونے جا رہی ہے، جس میں کسان، دیہی مزدور اور غیر رسمی شعبے کے ورکرز بھی شریک ہوں گے۔ہند مزدور سبھا کے ہربھجن سنگھ سدھو نے تصدیق کی کہ ہڑتال سے ’بینکنگ، ڈاک، کوئلہ کانکنی، فیکٹریز اور ریاستی ٹرانسپورٹ جیسی کلیدی خدمات بری طرح متاثر ہوں گی۔یونینز کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس محنت و روزگار کے وزیر منسکھ مانڈویہ کو 17 نکاتی مطالبات کا چارٹر پیش کیا تھا، لیکن مودی حکومت نے نہ صرف اس پر توجہ دینے سے انکار کیا، بلکہ پچھلے 10 سال سے مزدور کانفرنس بھی منعقد نہیں کی، جو حکومت کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کے مجموعی بلوں میں کمی ہوئی ہے تاہم یہ درست ہے کہ فکسڈ چارجز دوگنا ہو گئے ہیں۔ سبسڈی ملتی رہی تو بجلی کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ کمی کرتا رہوں گا۔ آنے والے دنوں میں دوپہر کے وقت شمسی توانائی سے کم نرخوں پر بجلی فروخت کی جائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ جب مفتاح اسماعیل خود وزیر تھے تو 18 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے تھے، ہم صرف 9 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے ہیں، جس کی تفصیلات موجود ہیں۔ مجھے نہیں معلوم مفتاح اسماعیل کے پاس 26000 میگاواٹ کا اعداد و شمار کہاں سے آیا۔ اس اعداد و شمار میں نیٹ میٹرنگ بھی شامل ہے، جس پر کوئی صلاحیت کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ جولائی 2025 سے اب تک بجلی کی کھپت میں 8 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ گزشتہ 9 سے 10 ماہ میں بجلی کی کھپت میں تقریباً 7 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کی کھپت بڑھ گئی ہے جو نیپرا کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ جب میں وزارت میں آیا تو اس میں سے 9 ہزار میگاواٹ لی۔ بقیہ 9000 میگاواٹ بجلی داسو اور بھاشا سے خریدی جائے گی۔ اس 9,000 میگاواٹ میں 1,200 میگاواٹ کا ایٹمی پلانٹ بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق میں نے پاور ڈویژن کے اخراجات آدھے اور ڈسکوز کے نقصانات کو کم کیا ہے۔ اس سال ڈسکوز کے نقصانات کو 586 ارب روپے سے کم کر کے 300 ارب روپے کر دوں گا۔ میں نے ٹیکس دہندگان کا پیسہ آدھا کر دیا ہے جو ہمارے فضول خرچیوں پر استعمال ہو رہا تھا۔ اگر سبسڈی جاری رہی تو بجلی کی قیمت میں 4، 5 سے 6 روپے کمی کرتا رہوں گا، میں نے ٹیکس دہندگان کے 600 ارب روپے بچائے ہیں۔
مزید پڑھیں۔روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی