وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت اہم جلاس
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 09 جولائی2025ء) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے افسران کو جاری منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے اور انہیں کسی تاخیر کے بغیر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے انہوں نے کہا کہ کسی بھی منصوبے میں سستی، نا اہلی اور بلاجواز تاخیر پر سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔این ایچ اے ہیڈ کو آرٹرز میں ادار ے کے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ شاہرات اور موٹرویز کی تعمیر و مرمت اور توسیع کے منصوبوں کو تیزی کے ساتھ مکمل ہونا چاہیے، گوادر پورٹ کو منسلک کرنے والی مرکزی شاہراہ کو مارچ 2026تک مکمل کیا جائے۔
اسی طرح بلوچستان کی ہوشاب،آواران اور نال کی اہم ترین شاہراہ پر بھی کام تیز کیا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے کراچی میں لیاری ایکسپریس وے کو جلد از جلد مکمل کرنے اور اٴْس کی معیاری تعمیر کے ساتھ ساتھ گرین ایریاز بنانے اور وہاں شجر کاری کرنے کی ہدایت کی۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کے پی کے میں مانسہرہ،ناران، جھال کنڈکی ایکسپریس وے پر کام کی رفتارتیز کرنے کی ہدایت کی۔
عبدالعلیم خان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی شاہراہوں کے اطراف بلا امتیاز کاروائی کرتے ہوئے ناجائز تجاوزات ہٹانے اور اس ضمن میں عملدرآمد کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہا۔انہوں نے کہا کہ بڑی شاہرات کے منصوبوں کا افتتاح خود وزیر اعظم کریں گے جس کے لئے وہاں منصوبوں کو ہر لحاظ سے مکمل ہونا چاہیے۔انہوں نے اپنے حالیہ دورے کی روشنی میں مری ایکسپریس وے پر سیاحوں کی ضروریات کے مطابق ریسٹ ایریاز بنانے کی ہدایت کی جہاں فیملی واشرومز سمیت "ریفریشمنٹ" کا بھی بندوبست ہو۔ وفاقی وزیر مواصلات نے ملک بھر میں این ایچ اے کی شاہراہوں کے اطراف موجودہ جگہوں کا سروے کرنے اور انہیں علاقے کی ضروریات کے مطابق نئے سرے سے کانٹریکٹ پر دینے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کو این ایچ اے کے ریونیو امور سمیت اہم معاملات پر بریفنگ دی گئی جس پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ ٹول پلازوں کی طرح این ایچ اے کے تمام منصوبوں کو کھلی نیلامی کیلئے پیش کیا جائے تاکہ ہر شہری اس عمل میں حصہ لے سکے۔انہوں نے اس ضمن میں عوامی آگاہی کے لئے تشہیری مہم چلانے کی بھی ہدایت کی۔وفاقی سیکرٹری مواصلات اور سی ای او این ایچ اے کے علاوہ لاہور،کراچی، کوئٹہ اور پشاور سے سینئر افسران نے ویڈیو لنک پر اجلاس میں شرکت کی اور اپنے اپنے زونز میں این ایچ اے کے منصوبوں کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ ***۔۔۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان ایچ اے کے کی ہدایت کی انہوں نے
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔