کینیا؛ حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہوگئی؛ 500 سے زائد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
کینیا میں حکومت مخالف مظاہروں میں گزشتہ ماہ بھی 19 افراد مارے گئے تھے جب کہ رواں ماہ 31 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیا میں گزشتہ برس سے جاری حکومت مخالف احتجاجی ریلیوں کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی جس میں مجموعی ہلاکتیں 100 سے زائد ہوگئیں۔
حکومت مخالف مظاہروں کے درمیان ایک رہنما استاد اور بلاگر البرٹ اوجوانگ کی پولیس حراست میں ہلاکت بھی ہوئی جس سے عوام میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔
نیروبی سمیت کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں مظاہرین صدر ویلیم رٹو سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔
پولیس نے مظاہرین پر صرف اندھا دھند فائرنگ ہی نہیں کی بلکہ 500 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا جنھیں مبینہ طور پر جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ کینیا میں یہ تازہ مظاہرے ملک میں جمہوریت کی جدوجہد کے طور پر منائے جانے والے دن "سبا سبا" کے موقع پر شدت اختیار کرگئے۔
یہ دن 7 جولائی 1990 کی یاد میں ہر سال منایا جاتا ہے جب کینیا میں عوام نے سابق صدر ڈینیئل اراپ موی کی آمریت کے خلاف کثیر الجماعتی جمہوریت کے حق میں مظاہرے کیے تھے۔
۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حکومت مخالف
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔