کتے اور بلیوں کے مالکان کی انوکھی خواہش
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
ایک سروے میں معلوم ہوا ہے کہ کتے اور بلیوں کے مالکان کی تقریباً نصف تعداد مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجی چاہتی ہے جو ان کے پالتو جانوروں کی زبان کا ترجمہ کر سکے۔
سروے کے مطابق 10 میں سے چار مالکان ایسے ٹیکنالوجی چاہتے ہیں جو ان کے کتوں کے بھونکنے اور بلیوں کے میاؤں کرنے کا ترجمہ کرنے میں مدد گار ہو۔
2000 افراد پر کیے جانے والے سروے میں معلوم ہوا کہ وہ مستقبل میں اسمارٹ واچ اور خودکار دانتوں کے برش جیسی ڈیوائسز سمیت اپنے پالتوؤں کے لیے ٹیکنالوجیکل جدت کے حوالے سے پُرامید ہیں۔
20 فی صد افراد کا کہنا تھا کہ وہ ایسی ڈیوائس چاہتے ہیں جس سے وہ اپنے کتے یا بلی سے ان کی صحت کے متعلق پوچھ سکیں جبکہ 17 فی صد یہ جاننا چاہتے تھے کہ ان کو معلوم ہو کہ ان کے جانور کتنے خوش یا ناخوش ہیں۔
سروے میں 34 فی صد افراد نے جانوروں کا فضلا اٹھانے والی خودکار ڈیوائس، 13 فی صد نے اپنے پالتوؤں کے ساتھ دوستی کے لیے اے آئی جانور جبکہ 29 فی صد نے اینگزائٹی اور جذباتی سہارے کے حوالے سے بتایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔