کتے اور بلیوں کے مالکان کی انوکھی خواہش
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
ایک سروے میں معلوم ہوا ہے کہ کتے اور بلیوں کے مالکان کی تقریباً نصف تعداد مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجی چاہتی ہے جو ان کے پالتو جانوروں کی زبان کا ترجمہ کر سکے۔
سروے کے مطابق 10 میں سے چار مالکان ایسے ٹیکنالوجی چاہتے ہیں جو ان کے کتوں کے بھونکنے اور بلیوں کے میاؤں کرنے کا ترجمہ کرنے میں مدد گار ہو۔
2000 افراد پر کیے جانے والے سروے میں معلوم ہوا کہ وہ مستقبل میں اسمارٹ واچ اور خودکار دانتوں کے برش جیسی ڈیوائسز سمیت اپنے پالتوؤں کے لیے ٹیکنالوجیکل جدت کے حوالے سے پُرامید ہیں۔
20 فی صد افراد کا کہنا تھا کہ وہ ایسی ڈیوائس چاہتے ہیں جس سے وہ اپنے کتے یا بلی سے ان کی صحت کے متعلق پوچھ سکیں جبکہ 17 فی صد یہ جاننا چاہتے تھے کہ ان کو معلوم ہو کہ ان کے جانور کتنے خوش یا ناخوش ہیں۔
سروے میں 34 فی صد افراد نے جانوروں کا فضلا اٹھانے والی خودکار ڈیوائس، 13 فی صد نے اپنے پالتوؤں کے ساتھ دوستی کے لیے اے آئی جانور جبکہ 29 فی صد نے اینگزائٹی اور جذباتی سہارے کے حوالے سے بتایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔