چین کی بھارتی کمپنیوں کو ٹیکنالوجی منتقل کرنے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
لاہور:
پچھلے 2عشروں سے امریکی حکمت عملی تھی کہ بھارت چین کی جگہ صنعتی وتجارتی مرکز بن جائے، امریکی کمپنیوں کو چین سے بھارت منتقل کرنا بھی اسی پالیسی کی کڑی ہے.
مگر اب ڈرامائی موڑ آنے پر اس نے دونوں بڑے پڑوسیوں کے مابین زبردست ٹیکنالوجی جنگ شروع کرا دی ہے، پہلے مرحلے میں چین نایاب ارضی دھاتیں بھارت کم بھجوانے لگا ہے جو چپ،کمپیوٹر ، موبائل، سولر پینل ، ونڈ ٹربائن،غرض جدید دنیا میں ترقی کی بنیاد بنی اشیاء بنانے میں کام آتیں.
دنیا میں 70 فیصد یہ دھاتیں چین میں بنتی ہیں۔ ان دھاتوں کی کمی سے موبائل و دیگر الیکٹرانکس بنانیوالی بھارتی فیکٹریوں میں بحران پیدا ہو رہا، دوم چین نے تائیوانی کمپنی، Foxconn کی بھارت میں فیکٹریوں سے سارے چینی سائنسدان و ٹیکنالوجی ماہرین واپس بلالیے ہیں.
اس کے علاوہ بھارتی کمپنیوں کو چینی ٹیکنالوجی کی منتقلی پر پابندی لگا دی، ان فیکٹریوں میں امریکی کمپنی ایپل کے آئی فون بنتے ہیں، مودی سرکار بھارت کو جدید ٹیکنالوجی کا حب بنانا چاہتی تھی، مگر چین کے انقلابی اقدامات نے اس کے سارے خواب چکنا چورکر دئیے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔