چین مریخ اور چاند سمیت خلا میں بھی اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا خواہشمند
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
چین خلا میں اپنی اجارہ داری یا نمایاں برتری قائم کرنے کا واضح ارادہ رکھتا ہے اور یہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ کئی منصوبوں، مشنز اور اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے۔
1. چاند
اگر چاند کے حوالے سے بات کی جائے تو چین "چانگے" نامی مشن سیریز کے ذریعے چاند پر تحقیق اور ممکنہ بیس کیمپ بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ 2020 میں چانگے 5 مشن کے ذریعے چین چاند سے مٹی کے نمونے زمین پر لانے والا تیسرا ملک بن گیا ہے۔
اسی طرح چین اور روس مل کر "انٹرنیشنل لونر ریسرچ اسٹیشن" بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں، جو کہ ایک مستقل بیس ہو سکتا ہے۔ بالکل ویسا جیسے امریکا ناسا کے "آرٹیمس" پروگرام کے ذریعے کر رہا ہے۔
2.
مریخ
اسی طرح چین نے 2021 میں Tianwen-1 مشن کے ذریعے نہ صرف مریخ کے گرد مدار میں خلائی جہاز بھیجا بلکہ ایک روور "Zhurong" بھی کامیابی سے مریخ کی سطح پر اتارا۔ یہ کارنامہ چین کو تیسرا ملک بناتا ہے جس نے مریخ پر کامیابی سے کوئی مشن اتارا ہے۔
3. خلائی اسٹیشن، تیانگانگ
چین نے اپنا خود کا خلائی اسٹیشن "Tiangong" تیار کر لیا ہے کیونکہ اسے عالمی خلائی اسٹیشن میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ تیانگانگ مکمل طور پر فعال ہے اور چینی خلا باز اس میں مستقل بنیادوں پر موجود ہوتے ہیں۔
4. چاند کی معدنیات پر دعویٰ
چین ہیلیم-3 جیسے قیمتی عناصر کے حصول کیلئے بھی چاند پر تحقیق کر رہا ہے جسے مستقبل میں توانائی کا متبادل سمجھا جا رہا ہے۔ اس وجہ سے ماہرین کو خدشہ ہے کہ چین چاند کے وسائل پر "پہلا دعویٰ" کرنے کی کوشش کرے گا جو خلا میں طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے۔
چین اپنے مشنز کو صرف سائنسی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک، عسکری اور معاشی مفادات کے تحت بھی استعمال کر رہا ہے۔ رازداری، مستقل سرمایہ کاری اور لانگ ٹرم وژن اس کے خلائی پروگرام کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
امریکا، جاپان، بھارت اور یورپی ممالک چین کی اس پیش قدمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی نے اپنے منصوبوں کو تیز تر کیا ہے تاکہ چین کو خلائی اجارہ داری میں واحد لیڈر بننے سے روکا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔