Daily Sub News:
2026-06-03@08:41:10 GMT

اسرائیلی حملے میں ایرانی صدر بھی زخمی ہوئے، ایرانی

اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT

اسرائیلی حملے میں ایرانی صدر بھی زخمی ہوئے، ایرانی

اسرائیلی حملے میں ایرانی صدر بھی زخمی ہوئے، ایرانی WhatsAppFacebookTwitter 0 13 July, 2025 سب نیوز

تہران (آئی پی ایس) اسرائیل کے ایرانی ایٹمی تنصیبات، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور عسکری کمانڈروں پر حملوں کے دوران صدر مسعود پزشکیان بھی زخمی ہوئے، انہیں ٹانگ میں زخم آئے۔

اسرائیل نے 13جون کو ایران کی ایٹمی تنصیبات، اعلیٰ حکومتی شخصیات، ایٹمی سائنسدانوں اور عسکری کمانڈروں پر حملوں کا آغاز کیا، جس میں 10 سے زائد ایٹمی سائنسدان اور عسکری کمانڈر شہید ہوئے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کی تازہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے 15 جون کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس پر بھی بمباری کی، جس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس زیر زمین ہونے کے باعث صدر مسعود پزشکیان اور دیگر رہنماؤں کو معمولی زخم آئے اور انہیں خفیہ راستوں سے باہر نکالا گیا۔

واضح رہے کہ چند دن پہلے ایرانی صدر نے امریکی صحافیوں کو انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی سے تعاون بند نہیں ہوا، اس کی نوعیت تبدیل ہوئی۔

تباہ شدہ ایٹمی تنصیبات کے دورے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تنصیاب کے آس پاس تابکاری پھیلنے اور بارودی مواد پھٹنے کا خطرہ موجود ہے، حملے میں ایٹمی تنصیبات کو نقصان پہنچا، اس سے زیادہ نقصان عالمی نظام کو پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے رہے، بین الاقوامی نظام کی سنگین خلاف ورزی پر عالمی برادری نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔

امریکی ویب سائٹ کے مطابق روسی صدر نے ایران پر امریکا سے جوہری معاہدہ قبول کرنے پر زور دیا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ ایران یورینیم کی “صفر افزودگی” کے معاہدے پر رضامند ہو۔

امریکی ویب سائٹ کے مطابق پیوٹن نے حالیہ ہفتوں میں امریکی صدراور ایرانی رہنماؤں تک یہ مؤقف پہنچایا، روسی صدر پیوٹن صفر افزودگی کی حمایت کریں گے۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ اگرمعاہدہ ہوجاتا ہے تو افزودہ یورینیم کو شہری استعمال کا کم سطح کا ایندھن بنانے کیلئے تیار ہونگے۔

ایرانی میڈیا نے ترید کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی صدر نے جوہری پروگرام سے متعلق ایران کو کوئی پیغام نہیں بھیجا۔ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ کسی بھی مذاکراتی حل میں ایران کے افزودگی کے حق کا احترام ہونا چاہیے، افزودگی کے حق کو تسلیم کیے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، اگر مذاکرات ہوتے ہیں، تو واحد موضوع جوہری پروگرام ہوگا، کوئی دیگر مسائل، خاص طور پر دفاعی یا فوجی معاملات، ایجنڈے پر نہیں ہونگے۔

اس سے قبل گزشتہ روز پینٹاگون نے قطر میں قائم امریکی بیس پر ایران کے حملے کی تصدیق کی۔ پینٹاگون کے ترجمان شون پارنیل نے عرب میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ 23 جون کو ایک ایرانی بیلسٹک میزائل العديد ایئر بیس پر آکر گرا، باقی تمام میزائلوں کو امریکی اور قطری فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔

ترجمان پینٹاگون کے مطابق بیس پر موجود سامان اور عمارتوں کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ العدید ایئر بیس مکمل طور پر فعال ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے بھی بیس کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق ہوگئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایک اذان کی تکمیل کیلئے 22 شہادتیں: دنیا بھر میں آج یوم شہدائے کشمیر منایا جارہا ہے امریکی صدر کی ثالثی کی تجویز نے امن کا دروازہ کھولا، بھارت کا انکار انکی جنگی ذہنیت کا ثبوت ہے: وزیر داخلہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی دباؤ نہیں، پاکستانی سفیر ایران کا جوہری مذاکرات کے لیے نئی شرائط کا اعلان پی ٹی آئی پاکستان کی ترقی کی اڑان کو پتھر مار کر کریش کرنا چاہتی ہے، احسن اقبال علی امین گنڈا پور کی لاہور آمد، پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس کا ایجنڈا سامنے آ گیا اسرائیل کے ساتھ جاسوسی کے الزامات: ایران سے 5 لاکھ افغان باشندے ملک بدر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایرانی صدر

پڑھیں:

آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار

آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔

امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کویت میں تعینات امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کی ایک نئی لہر بھیجی گئی، تاہم یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار سینٹکام کے مطابق امریکی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا اور اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار یا فوجی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔

تازہ حملوں کی یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا کہ قشم جزیرے پر رات گئے امریکی حملے کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

سینٹکام نے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا تھا کہ اس نے قشم جزیرے پر واقع ایک ایرانی زمینی کنٹرول اسٹیشن پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی۔

دوسری جانب امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

بیان میں کہا گیا، ’امریکی افواج کے خلاف ایران کے تمام حملے ناکام رہے۔ امریکی فوج ہر وقت چوکس ہے اور کسی بھی بلاجواز ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘

ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔

ایرانی فورس کے مطابق اس کے جواب میں ایک امریکی اسرائیلی جہاز پر بحری میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے بعد امریکی افواج نے قشم جزیرے کے جنوب میں واقع پاسدارانِ انقلاب کے ایک مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا۔

پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ایک امریکی فضائی اڈے، امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے کے ایک ملک میں موجود امریکی ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب امریکی فوج نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے قشم جزیرے پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی اور ساتھ ہی متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا۔

سینٹکام کے مطابق ایران نے خطے کے پڑوسی ممالک کی جانب کئی بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی بھی اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا۔

امریکی بیان میں کہا گیا کہ کویت کی جانب فائر کیے گئے دو ایرانی میزائل راستے ہی میں گر گئے یا ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، جبکہ بحرین کی طرف داغے گئے تین میزائلوں کو امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر تباہ کر دیا۔

واضح رہے کہ بحرین اور کویت میں حالیہ دنوں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام