کوئٹہ، ایف آئی اے کا انسانی اسمگلنگ میں ملوث 3 ملامزان کی گرفتاری کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
وفاقی تحقیقات ادارے کے مطابق خفیہ اطلاع پر کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر اسنیپ چیکنگ کے دوران 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ جنکے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کوئٹہ نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ایف آئی اے کے مطابق خفیہ اطلاع پر سریاب روڈ پر اسنیپ چیکنگ کے دوران 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ کارروائی کے دوران 17 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد شواہد کی روشنی میں تین افراد کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت حمد اللہ عرف کشمیر، گل زمان اور محمد اسلم کے نام سے ہوئی ہیں۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ ملزمان انسانی اسمگلنگ کے گھناؤنے جرم میں ملوث ہیں۔ کارروائی کے دوران تین موبائل فونز اور ایک نوٹ پیڈ بھی برآمد کیا گیا۔ ابتدائی جانچ سے ملزمان کے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث کے دوران
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔