UrduPoint:
2026-06-03@06:52:30 GMT

بھارت پر ٹرمپ ٹیرفس: نئی دہلی کا ردعمل

اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT

بھارت پر ٹرمپ ٹیرفس: نئی دہلی کا ردعمل

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 31 جولائی 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پر بھارت نے ایک محتاط بیان جاری کیا ہے۔

بھارت کی وزارت صنعت و تجارت کی طرف سے بدھ کی شام جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے، ’’حکومت نے دو طرفہ تجارت پر امریکی صدر کے بیان کا نوٹس لیا ہے۔ حکومت اس کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ بھارت اور امریکہ گزشتہ چند مہینوں سے ایک منصفانہ، متوازن اور باہمی فائدے پر مبنی دو طرفہ تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات میں مصروف ہیں۔

ہم اس مقصد کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘

وزارت نے یہ بھی کہا کہ حکومت کسانوں، کاروباری افراد اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں کی فلاح و بہبود کے تحفظ و فروغ کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا، حکومت قومی مفاد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی، جیسا کہ برطانیہ کے ساتھ کیے گئے حالیہ جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے میں بھی کیا گیا۔

(جاری ہے)

’بھارت ہمارا دوست ہے‘، ٹرمپ

بدھ کے روز، ٹرمپ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی ان کے دوست ہیں، لیکن بھارت امریکہ کے ساتھ زیادہ کاروبار نہیں کرتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بھارت امریکہ کو بہت کچھ بیچتا ہے، لیکن امریکہ سے کچھ نہیں خریدتا، اور اس کی وجہ انہوں نے بھارت کی بلند ٹیرفس (محصولات) کو قرار دیا، جو ان کے مطابق دنیا میں بلند ترین میں شمار ہوتے ہیں۔

امریکہ، بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں بھارت کو 41.

18 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا۔

ٹرمپ کے بارے میں عام رائے ہے کہ وہ ان تجارتی خساروں کو پسند نہیں کرتے جو امریکہ کو دیگر ممالک کے ساتھ برداشت کرنے پڑتے ہیں، اور وہ اکثر ان خساروں کی بنیاد پر ٹیرفس عائد کرتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تجارتی معاہدوں کو یکم اگست تک حتمی شکل دینے کی ڈیڈلائن سے ایک دن قبل، امریکی صدر نے بدھ کے روز بھارت پر 25 فیصد ٹیرف اور ’’جرمانہ‘‘ عائد کرنے کا اعلان کیا۔

ٹرمپ نے کہا، ’’وہ (بھارت) ہمیشہ اپنی اکثریتی فوجی سازوسامان روس سے خریدتے رہے ہیں، اور یوکرین میں قتل عام بند کرنے کے عالمی مطالبے کے باوجود چین کے ساتھ ساتھ روس کے سب سے بڑے توانائی خریدار بھی ہیں، یہ سب اچھی باتیں نہیں ہیں!‘‘

تاہم، ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ 25 فیصد نئے ٹیرف کے ساتھ ’’جرمانہ‘‘ درحقیقت کس چیز پر مشتمل ہو گا۔

بھارت کو دھمکی

خیال رہے کہ گزشتہ چند دنوں میں امریکی سیاست دانوں، بالخصوص سینیٹر لنزے گراہم، نے روسی تیل خریدنے والے ممالک کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔

گراہم نے چین، بھارت اور برازیل کا نام لے کر دھمکی دی کہ اگر آپ سستا روسی تیل خرید کر اس (یوکرین) جنگ کو جاری رکھنے میں مدد کرتے رہے، تو ہم آپ کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے، اور آپ کی معیشت کو کچل دیں گے۔

‘‘

جب کہ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قومی مفاد اور عوامی فلاح کو اولین ترجیح دے گا، اور جس ملک سے تیل سستا ملے گا، وہیں سے خریدے گا۔

بھارت میں سیاسی ردعمل

ٹرمپ کے اعلان پر بھارت کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے سخت ردعمل کرتے ہوئے کہا، ’’یہ خارجہ پالیسی کی مکمل ناکامی ہے۔ پورا ملک ایک شخص کی ’دوستی' کے نتائج بھگت رہا ہے۔

‘‘

کانگریس پارٹی نے اپنے بیان میں مزید کہا،’’ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف اور جرمانہ عائد کیا۔ اب ملک کو نریندر مودی کی ’دوستی‘ کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ مودی نے ٹرمپ کی انتخابی مہم چلائی، گلے لگایا، تصاویر کھنچوائیں، اور سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنایا۔ آخر میں، ٹرمپ نے پھر بھی بھارت پر ٹیرف لگا دیا۔ بھارت کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

‘‘

حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی ٹرمپ کے فیصلے پر نکتہ چینی کی۔ بی جے پی کے رہنماؤں نے ٹیرف کو ’’بدقسمتی‘‘ قرار دیا۔

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز کے جنرل سیکرٹری پروین کھنڈیل وال نے کہا، ’’یہ بدقسمتی ہے، اور مجھے یقین ہے کہ حکومتِ ہند اس پر مناسب اقدامات کرے گی۔ تجارت اور صنعت حکومت کے فیصلے پر انحصار کرے گی۔‘‘

ادارت: صلاح الدین زین

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بھارت کی بھارت پر کے ساتھ ٹرمپ کے نے کہا

پڑھیں:

ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟

ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارتی پولیس، وزارت داخلہ اور بیورو آف امیگریشن سے ہماچل پردیش میں تعطیلات گزارنے والے اسرائیلی فوج کے ریزروسٹ اہلکار ایٹن گل بوا کی فوری گرفتاری کا

مطالبہ کیا ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق مذکورہ اسرائیلی اہلکار پر غزہ میں ’انتقامی کارروائیوں کے طور پر پورے رہائشی بلاکس کی منظم تباہی‘ کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم  ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد

فاؤنڈیشن کے مطابق گل بوا، جو اسرائیلی فوج کی 271ویں کامبیٹ انجینئرنگ بٹالین میں ریزروسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے، نے شہری عمارتوں کی تباہی کو خود دستاویزی شکل دی۔

اس نے ایسی ویڈیوز بھی بنائیں جن میں وہ خان یونس اور رفح میں شہری گھروں کی مسماری کے احکامات دیتے، ان پر عمل درآمد کرتے اور اس عمل کا جشن مناتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

The @hindrajabfoundation filed an urgent complaint in ???????? #India, demanding the immediate arrest of Eitan Gilboa, Israeli national and reservist in the 271st Combat Engineering Battalion. Gilboa is currently vacationing in Old Manali and Gondla Village, Himachal Pradesh.
Full… pic.twitter.com/6nSTt3uk25

— The Hind Rajab Foundation (@HindRFoundation) June 2, 2026

فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ گل بوا کے خلاف متعدد ایسے واقعات کے شواہد موجود ہیں جن میں اس نے شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں حصہ لیا۔

’مارچ 30 موومنٹ‘ کے ذیلی ادارے ہند رجب فاؤنڈیشن نے کہا کہ گل بوا کے مبینہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔

فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت، جو اس کنونشن کا فریق ہے، قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی تلاش کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے،

خواہ ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی جنرل کو اعزاز دیے جانے کے بعد معروف ہدایتکارہ کا ایوارڈ لینے سے انکار

فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 51(سی) کے تحت بھی ریاست بین الاقوامی قانون کے احترام کو فروغ دینے کی پابند ہے، لہٰذا نئی دہلی پر اس معاملے میں کارروائی کی ذمہ داری

عائد ہوتی ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق اس کے جنرل ڈائریکٹر دیاب ابو جحجہ نے کہا کہ گل بوا کوئی سیاح نہیں بلکہ ایک جنگی مجرم ہے جو اپنے جرائم کے نتائج سے بچتے ہوئے اس وقت بھارت کی مہمان

نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔

The Hind Rajab Foundation (HRF), a Belgium-based organisation pursuing legal action against Israeli military personnel across multiple countries, has filed a complaint with Indian authorities seeking the arrest of an Israeli reservist currently travelling in Himachal Pradesh over…

— The Siasat Daily (@TheSiasatDaily) June 2, 2026

’اس نے خود عوامی طور پر ایسی ویڈیوز اور مواد شائع کیا ہے جن میں وہ غزہ کے پورے محلوں کو راکھ اور ملبے میں تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے، اور ان کارروائیوں کو انتقامی جذبے کے تحت

ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام منسوب کرتا ہے۔‘

مزید پڑھیں: بیلجیئم نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ آئی سی سی کو بھجوا دیا

دیاب ابو جحجہ نے بھارتی حکام سے فوری کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی سرزمین ان افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دینی چاہیے جو شہری جانوں کی

تباہی پر فخر کرتے ہیں۔

فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں جوابدہی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور اس کا مؤقف ہے کہ مشتبہ شخص اس وقت بھارت میں موجود ہے، اس لیے کارروائی

کی ذمہ داری بھی بھارت پر عائد ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی فوج اہلکار بھارت بیورو آف امیگریشن پولیس غزہ فاؤنڈیشن نئی دہلی ہماچل پردیش ہند رجب وزارت داخلہ

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی