وزیراعظم کے بیٹے کو ریلیف، لاہور ہائیکورٹ نے مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
وزیراعظم کے بیٹے کو ریلیف، لاہور ہائیکورٹ نے مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 31 July, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)ہائیکورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز کے خلاف چیک ڈس آنر کے مقدمے کے اندراج کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے سلمان شہباز کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سیشن کورٹ نے 10 جولائی کو چیک ڈس آنر کے معاملے پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا، جو قانون کے منافی اور حقائق کا جائزہ لیے بغیر جاری کیا گیا۔ درخواست میں مزید استدعا کی گئی کہ سیشن کورٹ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سیشن کورٹ کا دیا گیا مقدمہ درج کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے سلمان شہباز کو ریلیف دے دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد،خواتین کی تصاویر، ویڈیوز ایڈٹ کر کے بلیک میل اور ہراساں کرنے میں ملوث ملزم گرفتار اسلام آباد،خواتین کی تصاویر، ویڈیوز ایڈٹ کر کے بلیک میل اور ہراساں کرنے میں ملوث ملزم گرفتار اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس سے قبل ہوٹل انتظامیہ نے بکنگ کینسل کردی، رہنماوں کی حکومت پر سخت تنقید پی ٹی آئی کا خطرناک منصوبہ منظرعام پر لائوں گا مزید ارشد شریف جیسا کھیل کھیلنے نہیں دونگا، واوڈا ہماری موثر سفارت کاری نے بھارت کو دنیا میں بے نقاب کر دیا، سینیٹر عرفان صدیقی اسلام آباد کی ممتاز کاروباری شخصیات کے نمائندہ وفد کی گروپ لیڈر چکوال چیمبر قاضی محمد اکبر مرحوم کی قبر پرحاضری ، پھولوں کی... چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے سعودی سفیر کی ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیال
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مقدمہ درج کرنے کا کالعدم قرار
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں