کراچی: ڈی آئی جی ایسٹ زون نے انویسٹی گیشن پولیس میں تعینات 7 پولیس افسران کو معطل کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
کراچی:
ڈی آئی جی ایسٹ زون ڈاکٹر فرخ علی لنجار نے انویسٹی گیشن پولیس میں تعینات 7 پولیس افسران کو معطل کر کے پولیس ہیڈ کوارٹر ایسٹ زون تبادلہ کر دیا جبکہ ان کے خلاف انکوائری کا عمل بھی جاری ہے۔
ڈی آئی جی ایسٹ زون کی جانب سے جاری حکمنامے کے مطابق معطل کیے گئے پولیس افسران میں انسپکٹر (لیگل) دلدار خان انویسٹی گیشن ون ایسٹ ، انسپکٹر منظر حسین قادری ایس آئی او تھانہ سچل انویسٹی گیشن ون ، انسپکٹر ممتاز علی انویسٹی گیشن ون تھانہ سچل ، انسپکٹر مظفرالحق قائم مقام ایس آئی او تھانہ ماڈل کالونی انویسٹی گیشن تھری ، سب انسپکٹر محمد اکرم انویسٹی گیشن تھری ، سب انسپکٹر محمد نسیم ایس آئی او تھانہ قائد آباد انویسٹی گیشن ٹو جبکہ اے ایس آئی عبدالقدوس خان انویسٹی گیشن ٹو تھانہ قائد آباد شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انویسٹی گیشن ایسٹ زون ایس ا ئی
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔