اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ، پولیس تعینات
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
ڈی سی اسلام آباد کے مطابق کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ بننے والوں کی فی الفور گرفتاری ہوگی، وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے، دفعہ 144 کے تحت کسی بھی قسم کے اجتماع یا اکٹھ پر پابندی عائد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی دارالحکومت میں سیاسی جماعت کی جانب سے اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے معاملہ پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انتباہ جاری کر دیا گیا۔ ڈی سی اسلام آباد کے مطابق کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ بننے والوں کی فی الفور گرفتاری ہوگی، وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے، دفعہ 144 کے تحت کسی بھی قسم کے اجتماع یا اکٹھ پر پابندی عائد ہے۔ ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی، جب کہ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہ بننے کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد پی ٹی آئی کا 5 اگست کو ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پولیس کا اسلام آباد کے مختلف سڑکوں پر 2500 پولیس اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع نے مزید کہا کہ پولیس نے ممکنہ احتجاج کے باعث سکیورٹی پلان مرتب کر لیا، انتظامیہ کی جانب سے کسی کو احتجاج کا اجازت نامہ نہیں دیا گیا، بغیر اجازت خلاف ورزی پر مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ممکنہ احتجاج کے اسلام آباد کسی بھی
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔