این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کے خلاف سازش ہو رہی ہے: رضا ربانی
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما رضا ربانی نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکز پسند ذہنیت نے 18ویں ترمیم اور اختیارات منتقلی کو تسلیم نہیں کیا۔ 15 سال سے زائد عرصہ گزر گیا نیا این ایف سی ایوارڈ وجود میں نہیں آسکا۔
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ موجودہ این ایف سی ایوارڈ اٹھارہویں ترمیم سے پہلے کا اعلان کردہ ہے، موجودہ این ایف سی ایوارڈ صوبوں کو ملنے والی وزارتوں کا احاطہ نہیں کرتا۔
سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پارلیمانی نظام کو ناپید کر دیا ہے، الیکشن کمیشن نے اسپیکر کے پی اسمبلی کے اختیارات کو سلب کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق 5 سال سے زیادہ کوئی پرانا این ایف سی نہیں چل سکتا، نئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ 57.
پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا صوبوں کو بھیجا گیا خط درست نہیں ہے، وفاقی وزراء کے این ایف سی اور 18ویں ترمیم کے خلاف بیانات افسوسناک ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی پہلے این ایف سی پر نظر ثانی کے بیانات دیتے رہے، وزیر منصوبہ بندی نے این ایف سی پر 11 جولائی کو وزیر اعظم کو خط لکھا، خط کا متن این ایف سی میں پرانے ایوارڈ سے کم مالیت رکھنے کا ذکر ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی کو قابل تقسیم پول سے نکال دیا گیا ہے، وفاقی حکومت دوسرے ملکوں کے ساتھ پیٹرولیم اور منرلز کے معاہدے کر رہی ہے، پیٹرولیم مصنوعات اور معدنیات کا 50 فیصد حصہ صوبہ کا ہے۔ جو نئے معاہدے کیے گئے ان میں اس کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔
رضا ربانی نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر کا بیان ہے کہ دونوں ملکوں میں پیٹرولیم کا معاہدے ہوا، اس معاہدے کی کوئی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں، ان تمام معاہدوں کو پارلیمان میں لایا جائے اور تبادلہ خیال کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایف سی ایوارڈ ترمیم کے خلاف 18ویں ترمیم
پڑھیں:
طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف صوبوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف گروہوں نے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جس سے بعض علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق ’فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے کمانڈر حامد سیفی کی قیادت میں جنگجوؤں نے 20 جولائی کو صوبہ کاپیسا کے ضلع کوہستان میں مختلف شاہراہوں پر چیک پوسٹیں قائم کیں اور اہم راستوں پر نقل و حرکت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں پرتشدد واقعات، سابق انٹیلیجنس افسر اور قبائلی عمائدین الگ الگ حملوں میں قتل
ادھر صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتل میں حالیہ مزاحمتی کارروائی کے بعد ضلع زیبک سے بھی طالبان مخالف حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ٹاپ خانہ کے علاقے میں طالبان کی چیک پوسٹوں کے قریب شدید جھڑپیں جاری ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق لڑائی قریبی علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل ’سپاہیانِ میہن‘ نامی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے یفتل میں ضلعی انتظامیہ، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفاتر پر قبضہ کرکے طالبان کا پرچم اتار دیا، اسلحہ، فوجی گاڑیاں اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں طالبان کی اضافی نفری پہنچنے پر علاقے کا دوبارہ کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
تازہ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ بدخشاں طالبان حکومت کے لیے ایک اہم دباؤ والے علاقے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں بار بار ہونے والی مزاحمتی کارروائیاں طالبان کی سیکیورٹی حکمت عملی اور صوبے پر گرفت کو چیلنج کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف سرگرمیاں اب صرف پنج شیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل، بغلان، تخار، قندوز، کاپیسا، بلخ، ہرات اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں بھی مختلف مزاحمتی گروہوں نے کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح مزاحمت کا دائرہ بتدریج وسیع ہو رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان بدخشاں طالبان فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ