اسلام آباد، مارگلہ کی پہاڑیوں سے نکلنے والے نالوں میں طغیانی
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
فائل فوٹو
اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں سے نکلنے والے نالوں کی طغیانی کے باعث چک شہزاد اور پارک روڈ سے گزرنے والے برساتی نالوں میں شدید تغیانی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے انتظامیہ کو بارہا آگاہ کیا لیکن ابھی تک کوئی ٹیم نہیں آئی۔
دوسری جانب آج موسلادھار بارش کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور اور سیالکوٹ کے نشیبی علاقے زیر آب آنے کاخدشہ ہے۔
بارش کے باعث دیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، کوہستان، ایبٹ آباد، مری، گلیات اور کشمیر کے بر ساتی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا بھی امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارش کے باعث خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں، گلگت بلتستان، کشمیر، مری اور گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، باقی دریا اپنے اپنے ہیڈ ورکس پر معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے باعث
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔