جان بچانے والی غیر ملکی ادویات سے متعلق حکومت کا اہم فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
حکومت نے جان بچانے والی غیر ملکی ادویات سے متعلق بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ان کی درآمد کی اجازت میں پانچ سال کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ امپورٹرز کے لیے نئی شرائط بھی عائدکر دی گئی ہیں۔
نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے ایک نیا حکم نامہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت عوامی مفاد میں نایاب اور جان بچانے والی ادویات کی درآمد کو مشروط طور پر اجازت دی گئی ہے۔ ان میں کینسر،دل کے امراض اور دیگرناپید ادویات شامل ہیں۔
یہ درآمد ڈریپ (DRAP) کی پیشگی اجازت سے مشروط ہو گی، اور ڈرگز ایکٹ 1976 کے سیکشن 36 کے تحت ایس آر او بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس کے تحت سرکاری اور نجی اسپتال مخصوص غیر رجسٹرڈ یا نایاب ادویات صرف علاج کے لیے اسپتال کے اندرونی استعمال کے لیے درآمد کر سکیں گے۔
اہم نکات درج ذیل ہیں:
ادویات کومارکیٹ میں فروخت یا تقسیم کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
یہ ادویات ریسرچ، کلینیکل ٹرائل یا تجربات کے لیے استعمال نہیں کی جا سکیں گی۔
امپورٹرز کو استعمال کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنا ہوگا۔
ادویات کی درآمد صرف ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کوالیفائڈ کمپنیوں سے کی جا سکے گی۔
کسٹم کلیئرنس سے قبل ڈریپ سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
یہ اقدام ملک میں نایاب اور مہنگی ادویات کی دستیابی کو ممکن بنانے اور عوام کو بہتر علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اٹھایا گیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔