Express News:
2026-06-03@08:11:52 GMT

ایران سے تجارت اور چینی کا بحران

اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT

بلوچستان کے پہاڑوں پر اس دن سورج بڑی بے قراری سے نکلا ہوگا کیوں کہ اس نے جلد از جلد اسلام آباد کے اس منظرکو دیکھنا تھا۔ جب برادر اسلامی اور پڑوسی ملک ایران، جہاں سے کبھی تہذیب بھی آتی رہی، ثقافت بھی آ کر چھائی رہی، علما مشائخ، اولیائے کرام کے قافلے بھی آتے رہے اور لاہور کا تجارتی قافلہ کبھی اصفہان،کبھی شیراز میں فروکش ہوتا رہا۔ ملتان کی سوغاتیں اور دستکاریاں، زاہدان و سرد تہران میں ہاتھوں ہاتھ خریدے جاتے رہے۔

پشاورکے قصہ خوانی بازار میں ایران کے قصے مزے لے لے کر بیان کیے جاتے تھے۔ پریوں کی کہانیاں، طلسماتی کہانیاں اکثر بچوں کی نانیاں سنایا کرتی تھیں۔ ایسے میں کوئی کہے کہ کسی ’’ نانی کا ٹیکہ‘‘ بھی ایران میں ہے تو کچھ غلط نہ تھا۔ دل سے دل جڑے ہوئے تھے اور تجارتی قافلے رواں دواں تھے۔

باہمی تجارت زوروں پر تھی، پنجاب سے اس کی خوشبو دوبالا ہو جاتی اور ایرانی آغا ( تاجر ) تمام لیکن نظر تو ایسی لگی، ایسی لگی کہ انگریزوں کی آمد کے ساتھ ہی یہ تجارت سکڑتی چلی گئی۔ کہتے ہیں کہ تین ارب ڈالر تک کی سالانہ باہمی تجارت ہے جس میں ایران کا پلہ بھاری ہے کیوں کہ ایران سے تقریباً سوا ارب ڈالر کی درآمدات اور پاکستان سے برآمدات ایک ارب کے لگ بھگ یا اس سے کچھ زیادہ پاکستانی روپے کی شکل میں 2023-24 کے دوران ایران کے لیے پاکستانی برآمدات کی مالیت 2 کھرب 94 ارب 59 کروڑ روپے کی تھی۔

بہرحال باہمی تجارت 3 ارب ڈالر سے کم کی ہے۔ اب اسے کیسے 10 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے، یہ اہم سوال ہے۔ تین ارب ڈالر سے تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانا ممکن ہے۔

قیہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو باقاعدہ بنانے اور فروغ دینے کے لیے ایک بنیادی دستاویز ہے۔ اس کے تحت محصولات (ٹیرف) اور دیگر تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے اور نئی بارڈر مارکیٹ قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس سے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو کاروبار کے لیے مواقعے ملیں گے۔

ایک ایسا نظام وضع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ادائیگیوں کو آسان اور محفوظ بنائے تاکہ بین الاقوامی پابندیوں کے باعث تجارت متاثر نہ ہو۔ زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، اطلاعات و مواصلات ، ثقافت، سیاحت اور موسمیات جیسے شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ان معاہدوں کا اصل مقصد باہمی تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جائیں تو اس کے لیے اصل تعاون اور اصل کاروباری حجم میں اضافہ اور درحقیقت برآمدات برائے ایران میں اضافہ اسی وقت ممکن ہے جب حکومتی سیکریٹری سے نکل کر کاٹن انڈسٹری کے اونر، مل کے مالکان، برآمد کنندگان اور امپورٹرز کے ہاتھ میں آ جائے تو پھرکمال ہو جائے گا۔

ان تاجروں کو کارخانہ داروں کو گھریلو انڈسٹری کے مالکان کو ایران بھیجا جائے، اب یہاں پر حکومتی شراکت کام کرے، سفارت خانے کا عملہ ان لوگوں کو اچھی طرح بریفنگ دے۔ بڑے بڑے ایرانی درآمد کنندگان کی فہرست تھما دے اور سب سے آخر میں بازار کا راستہ بتا دے۔ آپ یقین کریں شام تک ان لوگوں کے ہاتھوں میں کروڑوں ڈالرز کے آرڈرز ہوں گے۔صبح ایک پراٹھا اور ایک کپ چائے اور جب چائے میں چینی نہ ہو تو یہی ناشتہ احتجاج بن جاتا ہے۔

گاؤں کے ایک مٹی کے گھر سے لے کر شہر کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں آج کل ایک ہی سوال سنائی دے رہا ہے کہ چینی گئی کہاں؟ گاؤں کا بوڑھا کسان جانتا ہے کہ وہ 70 کی دہائی میں راشن کارڈ سے اپنے حصے کی چینی دو روپے ساٹھ پیسے فی سیر خرید کر لاتے تھے اور ہر ایک کے کپ میں چینی ڈلتی تھی۔ حکومت نے پہلے اندازہ لگایا چینی بہت ہے اور سستے داموں بیرون ملک فروخت کردی۔

 نئی صدی کے آغاز سے پہلے ہی چینی 18 روپے فی کلو تھی اور کافی عرصے یہی قیمت رہی۔ 2009 میں معاملہ بگڑا اور بالآخر 90 روپے فی کلو تک بھی جا پہنچی۔ پھر قیمت میں کمی ہوئی، غالباً 2018 کے آغاز تک چینی فی کلو 52 روپے تھی، اس سال چینی 140 روپے پھر 160 روپے فی کلو ہوگئی اور چینی امپورٹ ہوگئی، لیکن اب چینی کی قیمت یا پچھلی قیمت پر دستیابی ناممکن ہے۔ کیوں کہ حکومت کبھی سستی چینی یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے فراہم کرتی تھی۔ کیا کسان نے چینی مہنگی کر دی کہ اپنا گنا دگنا قیمت پر فروخت کیا؟ ایسا بالکل نہیں، کیونکہ اس نے حکومتی نرخ پر فروخت کیے لیکن پیسے ابھی تک پورے نہیں ملے۔

عالمی منڈی میں چینی کی قیمت بڑھ گئی پاکستان میں روپے کی قدر کچھ کم ہو گئی۔ اب درآمدی چینی پہلے سے مہنگی ہی ملے گی۔ مہنگی ہو یا سستی لیکن یہ سوال ہر ایک پوچھتا ہے۔ اس سوال کا جواب پوچھنے کے لیے حکام بھی بے چین ہیں کہ آخر چینی گئی کہاں؟چینی کا بحران کبھی دو سال بعد آ جاتا ہے اور کبھی اس سے زیادہ یا کم عرصے میں۔ ہر آنے والی حکومت کو اس بحران سے گزرنا پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمیشہ چینی کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اس مسئلے کا مستقل حل قانون سازی کے ذریعے نکل سکتا ہے۔

شاید کسی حکومت کے بس میں نہیں لہٰذا عوام چینی کے متبادل گڑ، شکر وغیرہ کا بھی استعمال کرنے پر غور کریں۔ کیوں کہ چینی کے بحران سے غریب عوام نے اپنے طور پر ہی نکلنا ہے کیوں کہ چینی کی قیمت میں کب کمی آئے گی، حکومت کوشش کر رہی ہے لیکن فی الحال شافی نتیجہ نہیں نکل رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چینی کی قیمت باہمی تجارت ارب ڈالر تک کیوں کہ کے لیے ہے اور فی کلو

پڑھیں:

سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

 کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟