ناروے کپ فٹبال کے دوران پاکستانی فٹبالر امان اللہ رؤف بلوچ اوسلو میں لاپتہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
ناروے کپ فٹبال چیمپئن شپ کے دوران پاکستانی فٹبالر امان اللہ رؤف بلوچ اوسلو میں لاپتہ ہو گئے۔ذرائع کے مطابق امان اللہ پہلے روز ہی غائب ہو گئے تھے اور ان کا پاسپورٹ بھی ان کے پاس ہے، ساتھی کھلاڑی نے انکشاف کیا کہ امان اللہ نے چیمپئن شپ میں شرکت ہی نہیں کی۔مسلم ہینڈز ٹیم کے ترجمان کے مطابق امان اللہ رؤف بلوچ کا تعلق کراچی کے علاقے لیاری سے ہے، امان اللہ استقبالیہ تقریب میں بھی نہیں آئے تھے۔ترجمان نے بتایا کہ مسلم ہینڈز کی ٹیم ناروے میں شیڈول میچز مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آچکی ہے جبکہ امان اللہ کی گمشدگی کے حوالے سے ناروے پولیس کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور پاکستانی سفارتخانے کو بھی تمام صورتحال سے آگاہ کیا جاچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔