شبلی فراز اور زرتاج گل کی 11 اگست تک حفاظتی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
سٹی42 : پشاور ہائیکورٹ نے انسداد دہشت گردی عدالت فیصل آباد سے سزا کے کیس میں زرتاج گل اور شبلی فراز کو 11 اگست تک حفاظتی ضمانت دیدی۔
تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے 9مئی کیس میں سزا کے معاملے میں پاکستان تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل اور قائد حزب اختلاف سینیٹ شبلی فرازکی 11 اگست تک حفاظتی ضمانت منظور کرلیا۔
ایف آئی اے نے بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی کرپشن کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کرلیے ؛ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
پشاور ہائیکورٹ نے حفاظتی ضمانت کا محفوظ فیصلہ جاری کرتے ہوئے زرتاج گل اور شبلی فراز کو متعلقہ ہائیکورٹ میں اپیل دائرکرنےکی ہدایت کردی۔
حکم نامہ میں مزید کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ میں سرنڈر ہونے تک زرتاج گل کو گرفتار نہ کیا جائے، زرتاج گل کو ایک لاکھ دو نفری کے ضمانتی مچلکوں پر حفاظتی ضمانت دی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت فیصل آباد نے گزشتہ ہفتے 9 مئی کیس میں زرتاج گل اور شبلی فراز کو قید کی سزا سنائی تھی۔
صوفی بزرگ شاہ عبد الطیف بھٹائی کا عرس، 9 اگست کو عام تعطیل کا اعلان
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 لاہور حفاظتی ضمانت زرتاج گل اور شبلی فراز
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔