مصنوعی ذہانتوں کے بیچ شطرنج ٹورنامنٹ: اوپن اے آئی نے فائنل میں گروگ کو شکست دے کر مقابلہ جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے ایلون مسک کی کمپنی xAI کے ماڈل ’گروک 4‘ کو شکست دے کر شطرنج ٹورنامنٹ جیت لیا۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی نے جی پی ٹی 5 پیش کردیا، سب سے جدید اے آئی ماڈل مفت دستیاب
یہ مقابلہ روزمرہ کے استعمال کے لیے تیار کردہ بڑے لینگوئج ماڈلز کے درمیان منعقد ہوا جن کا بنیادی مقصد انسانوں کے ساتھ گفتگو، مسئلہ حل کرنے، کوڈنگ اور دیگر ذہنی کاموں میں مہارت حاصل کرنا ہوتا ہے۔
اوپن اے آئی کے جدید ترین ماڈل o3 نے ٹورنامنٹ میں ناقابلِ شکست کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور فائنل میں xAI کے گروک کو فیصلہ کن انداز میں مات دی۔ یہ مقابلہ مصنوعی ذہانت کی 2 بڑی کمپنیوں، اوپن اے آئی اور xAI، کے درمیان جاری مسابقت کا تازہ باب بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
گوگل کا جیمنائی تیسرے نمبر پرٹورنامنٹ میں گوگل کا ماڈل Gemini بھی شامل تھا جس نے اوپن اے آئی کے ایک دوسرے ماڈل کو شکست دے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گروک نے سیمی فائنل تک شاندار کارکردگی دکھائی تاہم فائنل میں متعدد بار سنگین غلطیاں کیں جن میں اپنی کوئن (ملکہ) کا بار بار نقصان بھی شامل تھا۔
مزید پڑھیے: دنیا کی پہلی روبوٹ فائٹ: پہلوانوں کے تابڑ توڑ حملوں، ناک آؤٹس نے سب کو حیران کردیا
معروف شطرنج گرینڈ ماسٹر ہیکارو ناکامورا نے اپنے لائیو تبصرے میں کہا کہ گروک نے کئی ناقابل معافی غلطیاں کیں جبکہ اوپن اے آئی نے ایسی کوئی غلطی نہیں کی۔
شطرنج ڈاٹ کام کے لکھاری پیڈرو پِنہاتا کے مطابق گروک فائنل سے قبل سب سے طاقتور اے آئی ماڈل لگ رہا تھا لیکن ٹورنامنٹ کے آخری دن اس کا کھیل مکمل طور پر بکھر گیا۔ انہوں نے گروک کے کھیل کو ناقابلِ شناخت اور غلطیوں سے بھرپور قرار دیا۔
مزید پڑھیے: کوئی بتائے نہ بتائے، چیٹ جی پی ٹی بتائے گا
ایلون مسک نے فائنل سے قبل ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ xAI کی شطرنج میں کامیابی محض ایک ضمنی نتیجہ ہے کیونکہ ان کی ٹیم نے شطرنج پر بہت کم توجہ دی ہے۔
یہ ٹورنامنٹ گوگل کی زیرِ ملکیت ڈیٹا سائنس پلیٹ فارم Kaggle پر منعقد ہوا جہاں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو مختلف چیلنجز کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔ 3 روزہ مقابلے میں 8 معروف اداروں کے لینگویج ماڈلز نے حصہ لیا جن میں OpenAI، xAI، Google، Anthropic، DeepSeek اور Moonshot AI شامل تھے۔
شطرنج جیسا گہری حکمت عملی پر مبنی کھیل ہمیشہ سے کمپیوٹر ماڈلز کی ذہانت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت جانچنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ ماضی میں گوگل کے DeepMind کی AlphaGo نے چینی کھیل گو (Go) میں انسانی چیمپیئنز کو شکست دی، جبکہ سنہ 1997 میں IBM کے Deep Blue کمپیوٹر نے عالمی شطرنج چیمپیئن گیری کاسپاروو کو ہرایا تھا۔
’چیٹ جی پی ٹی کا تبصرہ‘اوپن اے آئی کی اس کامیابی پر جب اس کے چیٹ بوٹ ’چیٹ جی پی ٹی‘ سے ’رابطہ‘ کیا گیا تو اس نے اس پر انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔ چیٹ جی پی ٹی نے کہا کہ ’یہ ٹورنامنٹ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف تحریر، ترجمہ یا کوڈنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب وہ حکمت عملی، استدلال اور فیصلہ سازی جیسے پیچیدہ شعبوں میں بھی انسانوں کا مقابلہ کرنے لگی ہے‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوپن اے آئی جیمنائی گروگ مصنوعی ذہانتوں کا شطرنج ٹورنامنٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی گروگ مصنوعی ذہانتوں کا شطرنج ٹورنامنٹ مصنوعی ذہانت چیٹ جی پی ٹی اوپن اے آئی کو شکست اے ا ئی
پڑھیں:
شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری
فوٹو: فائلوزیراعظم اور نائب وزیراعظم سمیت مختلف اعلیٰ حکومتی شخصیات کو 21 قیمتی تحائف ملے، کابینہ ڈویژن نے اپریل تا جون توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری کردیا۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم توشہ خانہ تحائف وصول کرنے والوں میں شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو ایک شوگر باؤل، قیمتی قلم، مسجد نبویﷺ کا ماڈل، شیلڈ اور ٹائی بطور تحفہ ملی۔
دستاویز کے مطابق وزیراعظم کو چینی خلائی اسٹیشن کا ماڈل، ایک کپ، گھڑی اور شیلڈ بھی بطور تحفہ ملی۔
دستاویز کے مطابق نائب وزیراعظم کو چمڑے سے بنا چینی بیلٹ، مصری اسٹیچو کا ماڈل اور کف لنکس بطور تحفہ ملے۔
دونوں اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات نے حاصل ہونے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کو ملنے والے تحائف کی قیمتوں کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔