اداکارہ نرما 11 سال بعد منظرِعام پر؛ مداحوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
پاکستان کی معروف فلمی اداکارہ نرما برسوں بعد سوشل میڈیا پر جلوہ گر ہو گئی ہیں، جس پر مداحوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔
نرما کو حالیہ دنوں میں ایک جم میں دیکھا گیا جہاں وہ اپنے ٹرینر کے ہمراہ ورزش کرتی نظر آئیں۔
انھوں نے گلابی رنگ کی ٹی شرٹ اور جم ٹراوزر پہن رکھا تھا اور ان کی فٹنس اور وزن میں واضح کمی دیکھی جا سکتی ہے۔
ویڈیوز میں نرما کا چہرہ بغیر میک اپ کے تھا، جو مداحوں کے لیے حیرت کا باعث بنا۔ ان کے فطری حسن کو سراہا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اداکارہ نرما کی آخری فلم "شیرِ لاہور” 2014 میں ریلیز ہوئی تھی، جس کے بعد وہ میڈیا اور انڈسٹری سے دور ہو گئی تھیں۔
اس دوران کئی افواہیں گردش کرتی رہیں کہ وہ ذاتی مسائل کا شکار ہیں، تاہم حالیہ ویڈیوز نے ثابت کر دیا کہ نرما نہ صرف اپنی زندگی میں خوش ہیں بلکہ صحت کا بھی خیال رکھ رہی ہیں۔
مداحوں نے انسٹاگرام اور فیس بک پر ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اگر نرما واپس اسکرین پر آئیں تو یہ ایک خوش آئند لمحہ ہوگا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔