اسحاق ڈار کا ترک ہم منصب سے فون پر رابطہ، غزہ پر اسرائیلی قبضے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
اسلام آباد (آئی این پی )نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ ہاکان فدان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے غزہ پر اسرائیل کے مکمل فوجی قبضے کے منصوبے کی شدید مذمت کی۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسرائیل کے مکمل فوجی قبضے کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔انہوں نے فوری اور بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی، اور اسرائیلی کارروائیوں میں جاری استثنیٰ کے خاتمے پر زور دیا، غزہ کی حالیہ صورتحال پر بھی پاکستان اور ترکیہ مسلسل رابطے میں ہیں اور انسانی بحران کے حل کے لیے عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی اور ترک وزرائے خارجہ نے دو طرفہ تعاون اور علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔