ہونہار سکالر شپ پورٹل پھر کھول دیا، طلبہ کو اُڑان کیلئے پر دیئے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
لاہور(نوائے وقت رپورٹ) وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کے طلبہ کے نام ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پنجاب کے طلبہ کے لیے ہونہار سکالر شپ کا پورٹل ایک بار پھر سے کھول دیا گیا۔ وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ میرے پیارے پنجاب کے طلبہ آپ کے خواب صوبے کے مستقبل کی دھڑکن ہیں۔ الحمدللہ ہونہار سکالرشپ پروگرام سے 80 ہزار نوجوان ذہنوں کو پھلنے پھولنے اور اڑان کے لیے پر دئیے گئے ہیں۔ 50 ہزار طلبہ پہلے ہی اپنے ہونہار سکالر شپ سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ مزید 30 ہزار ہونہار سکالر شپ دئیے جائیں گے۔ اس کی تعداد مزید بڑھائی جائے گی۔ گزشتہ سال سے ہونہار سکالر شپ پروگرام 67 فیوچر پروف ڈسپلنز میں طلبہ کے لیے نئے دروازے کھول رہا ہے۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہاکہ پنجاب میں طلبہ کو وہ صلاحیتیں اور مواقع دئیے جارہے ہیں جن کے نوجوان حقدار ہیں۔ ہونہار سکالر شپ کے اگلے فیز کے لیے پورٹل پھر کھل چکا ہے۔ طلبہ یقین کے ساتھ ہونہار سکالرشپ کے لیے اپلائی کریں اور شوق کے ساتھ تعلیم حاصل کریں۔ طلبہ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں اس پر یقین کرنے سے کبھی باز نہ آئیں۔ طلبہ کی کامیابی ہمیشہ میرا سب سے بڑا فخر ہے۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر لاہور کی پہلی ٹورزم شاہراہ ''واہگہ ہیریٹیج کوریڈور'' کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے۔ قائداعظم انٹرچینج سے واہگہ بارڈر (زیرو لائن) تک تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ 13 کلومیٹر طویل اس منصوبے پر اب تک 28 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ لاکھوں شہریوں کو بہترین سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے سڑک کو اطراف سے وسیع کیا جارہا ہے۔ دورویہ ٹورزم شاہراہ 68 فٹ چوڑی ہے جس کے دونوں اطراف 20 فٹ چوڑی سروس روڈز بھی تعمیر کی جا رہی ہیں۔ 22کلومیٹر سے زائد طویل آر سی سی ڈرینج سسٹم، 10 کلومیٹر آرائشی دیوار کی تعمیر کے علاوہ جدید سولر سٹریٹ لائٹس بھی نصب کی جارہی ہیں۔ جنوری میں شروع ہونے والا منصوبہ تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ٹریفک میں روانی کے ساتھ ساتھ منصوبے کی تکمیل سے واہگہ بارڈر پر پریڈ دیکھنے کے لیے آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو بھی عالمی معیار کی سفری سہولتیں فراہم ہوں گی۔ لاکھوں لوگ روزانہ واہگہ ہیریٹیج کوریڈور استعمال کرتے ہیں۔ بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو آمد پر پاکستانی ثقافت، سیاحت اور خوبصورتی کے منفرد رنگ نظر آئیں گے۔ شہری سفر کے دوران قومی ہیروز کے پورٹریٹس اور روشنیوں سے مزین خوبصورت رنگ دیکھ سکیں گے۔ شاہراہ پر اب تک 2850 ملین روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ شاہراہ کی تعمیر اور نئے سیوریج نظام کی تنصیب سے اہل علاقہ کا دیرینہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ژوب، بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے مزید 14 دہشت گرد واصلِ جہنم کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ پاکستان کے سپاہی دشمن کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، چاہے وہ زمین کے کونے میں ہو یا پہاڑ کی چوٹی پر۔ پاک فوج کے جوانوں کی قربانیاں اور بہادری پاک وطن کی حقیقی ڈھال ہیں۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہاکہ فتنہ الخوارج کے ہر کارندے کا خاتمہ کرنے کے لئے پوری قوم پر عزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیراعلی مریم نواز مریم نواز شریف نے ہونہار سکالر شپ شریف نے کہاکہ کے لیے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک