اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، انڈیکس 147000 پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس کاروبار کے ابتدائی اوقات میں 900 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا، صبح 10 بج کر 55 منٹ پر انڈیکس 147,845.28 کی سطح پر تھا، جو 915.44 پوائنٹس یا 0.62 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
کاروباری سرگرمیوں میں گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی، انڈیکس میں نمایاں وزن رکھنے والے حصص جیسے ایم اے آر آئی، پی او ایل، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ایس این جی پی ایل، ایچ بی ایل، ایم سی بی، میزان بینک اور یو بی ایل سبز زون میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج نئی بلندیوں پر، تیزی کا طوفان مسلسل جاری
ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر کارپوریٹ منافع اور پاکستان کے توانائی کے شعبے میں متوقع امریکی سرمایہ کاری کی خبروں کے باعث بڑھا ہے، گزشتہ روز بھی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی چھائی رہی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,547.
PSX Soars in FY 2025 – Outperforms Global Markets!
The Pakistan Stock Exchange (PSX) has delivered an exceptional performance in FY 2024-25, outshining major global markets with impressive returns in US Dollar terms!
???? PSX leads the charge, showcasing resilience and growth… pic.twitter.com/ChQZfOscmi
— Sarmaaya Financials (@sarmaayapk) August 11, 2025
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا سے واپسی پر غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ جلد مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر امریکی سرمایہ کاری کی خوشخبری ملے گی۔ ان کے بقول امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کامیاب رہے ہیں اور پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جس کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
عالمی اسٹاک مارکیٹ پوزیشنعالمی سطح پر بھی منگل کو زیادہ تر ایشیائی حصص میں تیزی رہی، جس کی وجہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں امریکا اور چین کے درمیان محصولات کی جنگ میں 90 دن کی مہلت کا اعلان تھا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ فیصلہ پیر کو کیا، جس سے چینی اشیا پر بھاری محصولات عارضی طور پر رک گئیں۔
اس فیصلے، امریکی فیڈرل ریزرو کی ممکنہ شرح سود میں کمی کی توقعات، اور مستحکم کارپوریٹ نتائج نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا۔
مزید پڑھیں:نئے مالی سال کے پہلے ہی روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس پہلی بار 27 ہزار کی سطح عبور کرگیا
جاپان کا نکی انڈیکس ریکارڈ بلندی پر پہنچ گیا اور 2 فیصد اوپر بند ہوا، آسٹریلیا کا بینچ مارک انڈیکس بھی بلند ترین سطح پر پہنچا، جہاں مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے امکان پر بازار مثبت رہا۔ اس دوران ایم ایس سی آئی کا ایشیا-پیسیفک انڈیکس معمولی حد تک اوپر گیا، جبکہ چین کا بلیو چِپ انڈیکس مستحکم اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.1 فیصد کم رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج پاکستان اسٹاک ایکسچینج اسٹاک ایکسچینج میں
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔