مخصوص ایام میں خواتین ایتھلیٹس کو درپیش چیلنجز: کھیل کے میدان میں ایک پوشیدہ آزمائش
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
عالمی سطح پر خواتین کھلاڑیوں کی کارکردگی اور شمولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تاہم ان کی صحت سے متعلق بعض مسائل اب بھی کھیلوں کے اداروں کی توجہ سے محروم ہیں۔ حالیہ بین الاقوامی رپورٹس اور کھلاڑیوں کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ مخصوص ایام کے دوران خواتین ایتھلیٹس کو ایسے جسمانی و ذہنی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے جو ان کی کارکردگی پر براہ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پہلی میرا تھن دوڑ، خواتین ایتھلیٹس کو اجازت نہ مل سکی
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانسیسی سائیکلسٹ سیڈرین کیربوہل نے ایک حالیہ رپورٹ میں اعتراف کیا کہ بعض اوقات کھلاڑی وزن کم رکھنے کے دباؤ میں غذائی کمی کا شکار ہو جاتی ہیں جس کے نتیجے میں نہ صرف جسمانی کمزوری پیدا ہوتی ہے بلکہ مخصوص ایام میں بےقاعدگی اور دیگر طبی پیچیدگیاں بھی جنم لیتی ہیں۔
اس عمل کو ماہرین نے Relative Energy Deficiency in Sport (RED-S) کا نام دیا ہے جو خواتین ایتھلیٹس کی مجموعی صحت اور مستقبل پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: دنیا بھر میں خواتین کھلاڑیوں کو امتیازی سلوک کا سامنا، اقوام متحدہ نے کیا حل بتایا؟
سائکلیسٹس الائنس جیسے اداروں نے اب مطالبہ کیا ہے کہ عالمی سائیکلنگ تنظیم یو سی آئی سالانہ بنیاد پر کھلاڑیوں کی ہڈیوں کی مضبوطی اور ہارمونی توازن کا باقاعدہ معائنہ لازمی قرار دے تاکہ بروقت طبی مدد فراہم کی جا سکے۔
کارکردگی متاثر نہ ہو، اس کا حل کیا ہے؟دوسری جانب کچھ ٹیمیں جدید سائنسی تحقیق کی روشنی میں تربیتی نظام کو اس انداز سے ترتیب دے رہی ہیں کہ کھلاڑیوں کے مخصوص ایام کے دوران توانائی کی سطح اور جسمانی ردعمل کو مدِنظر رکھا جا سکے۔ یوکے اسپورٹس انسٹیٹیوٹ کی معاونت سے ایک برطانوی خواتین ٹیم نے ایسے طریقہ کار کو اپنایا جس میں ہر کھلاڑی کو درپیش مخصوص ایام کے مختلف مراحل (جیسے ابتدا، درمیان آخری دن وغیرہ) کے مطابق ٹریننگ کا شیڈول تیار کیا گیا۔ اس کا نتیجہ بہتر کارکردگی اور کم چوٹوں کی صورت میں سامنے آیا۔
مزید پڑھیں: بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا خواتین کی صحت کے لیے 2.
ماہرین کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی دنیا میں اب وقت آ چکا ہے کہ خواتین کی حیاتیاتی ضروریات کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جائے نہ کہ ایک رکاوٹ کے طور پر۔ باقاعدہ طبی تعاون، تربیت میں لچک اور شعور کی فراہمی سے خواتین ایتھلیٹس کو وہ ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے جس میں وہ اپنی بہترین کارکردگی دکھا سکیں خواہ وہ دن مخصوص ایام کے ہی کیوں نہ ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خواتین ایتھلیٹس خواتین ایتھلیٹس کی مشکلات خواتین کھلاڑیوں کے مخصوص ایام،
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خواتین ایتھلیٹس مخصوص ایام کے
پڑھیں:
محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
اسلام آباد میں وزیر داخلہ اور گورنر کے پی کے نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات ہوئی۔ دونوں راہنماؤں کے درمیاں ملاقات میں خیبر پختونخوا میں امن عامہ کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے وفاقی وزیر داخلہ آگاہ کیا۔ وزیر داخلہ اور گورنر کے پی کے نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔