علی امین گنڈاپور کا کل کے پی میں سوگ کا اعلان، قومی پرچم سرنگوں رہے گا
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کل صوبے بھر میں سوگ کا اعلان کر دیا۔
جاری کیے گئے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ کل صوبے میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بتایا ہے کہ باجوڑ میں امدادی سامان لے جانے والا صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر خراب موسم کے باعث کریش ہوا۔
خیبر پختونخوا، گلگلت بلتستان، آزاد کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلے، 164 افراد جاں بحقپی ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ نقصان ضلع بونیر میں ہوا۔ بونیر، باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام آفت زدہ اضلاع قرار دے دیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے میں 2 پائلٹس سمیت عملے کے 5 افراد شہید ہوئے، حادثے کی جگہ پر امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ شہداء کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے کے شہداء کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، ہیلی کاپٹر میں سوار افراد نے دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، یہ ہمارے اصل ہیرو ہیں، ان کی قربانی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھی جائے گی۔
واضح رہے کہ باجوڑ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے جانے والا خیبر پختون خوا حکومت کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا، اس حادثے میں 2 پائلٹس سمیت عملے کے 5 افراد شہید ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔