کراچی:

وفاقی حکومت معرکۂ حق میں مسلح افواج  کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے اور جشنِ آزادی کے موقع پر 75 روپے کا یادگاری سکّہ جاری کر رہی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والا سکہ دھاتی ساخت، خوب صورت شکل اور خصوصیات کا حامل ہے۔

سکے کی دھاتی ساخت میں نکل  اور پیتل، تانبہ 79 فیصد، زنک 20 فیصد اور نکل ایک فیصد  ہے، اس کا قطر 30 ملی میٹر اور وزن  13.

5 گرام ہے۔

سکے کے سامنے کے رخ پر وسط میں بڑھتا ہوا ہلال اور پانچ نوکوں کا ابھرتا ہوا ستارہ ہے، جس کا رخ شمال مغرب کی طرف ہے، ستارے اور ہلال کے اوپر سکّے کے  کنارے کے ساتھ ساتھ اردو میں ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے الفاظ کندہ ہیں۔

چاند کے نیچے اور گندم کی اوپر کی طرف خمیدہ دو بالیوں کے اوپر عددی صورت میں اجرا کا سال 2025 درج ہے، ستارے اور ہلال کے دائیں اور بائیں جانب بالترتیب سکّے کی مالیت جلی اعداد میں ’’75 ‘‘ اور اردو رسم الخط میں ’’روپیہ‘‘ تحریر ہے۔

سکے  کے پچھلے رخ پر وسط  میں اردو میں ’’معرکۂ حق‘‘ اور ہندسوں میں ’’2025 ‘‘کے الفاظ درج ہیں،  سکّے کے بالائی کناروں پر اردو میں ’’پاکستان ہمیشہ زندہ باد‘‘ رقم ہے، سکّے کے پچھلے رخ پر (دائیں اور بائیں جانب) دو لڑاکا طیارے،  بحری جہاز، ملٹی پل راکٹ لانچر سسٹم  ابھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

مذکورہ سکہ اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن کے فیلڈ دفاتر  کے ایکسچینج کاونٹرز پر 15 اگست 2025 سے دستیاب ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسٹاک ایکسچینج پر فروخت کا دباؤ برقرار، منفی زون میں ٹریڈنگ جاری
  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر