بارشوں سے تباہی: گورنر سندھ کا وزیراعلیٰ کے پی کو فون، ہرممکن تعاون کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
کراچی:
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور بارشوں سے تباہی پر انہیں ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو اس مشکل گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے وزیرِاعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق کو بھی ٹیلی فون کیا اور حالیہ بارشوں و سیلابی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔
گورنر سندھ کی جانب سے متاثرین کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گی۔ گورنر نے کہا کہ سندھ کے عوام کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ہر ممکن تعاون و امدادی اقدامات جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گورنر سندھ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔