احتجاجی مظاہرے میں آئی ایس او کے مرکزی صدر فخر عباس نقوی، ایس یو سی کے مرکزی رہنما علامہ ناظر تقوی، ایم ڈبلیو ایم کراچی کے صدر علامہ صادق جعفری، علمدار رضوی و لاپتا شیعہ عزادار اظہر عباس کی اہلیہ نے خطاب کیا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

کراچی، مرکزی جلوس اربعین حسینیؑ میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج

اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اربعین حسینیؑ کے مرکزی جلوس عزاء میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ نے اپنے پیاروں کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مرکزی جلوس کے دوران ایم اے جناح روڈ پر باجماعت نماز ظہرین کے بعد جبری گمشدہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کی جانب سے کئے گئے احتجاج میں مرد و خواتین، لاپتہ شیعہ افراد کے معصوم بچے بھی موجود تھے۔ احتجاجی مظاہرے میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر فخر عباس نقوی، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری علامہ سید ناظر عباس تقوی، مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے صدر علامہ صادق جعفری، علمدار رضوی و لاپتا شیعہ عزادار اظہر عباس کی اہلیہ نے خطاب کیا۔ اس موقع پر علامہ سید حیدر عباس عابدی، مولانا ڈاکٹر عقیل موسیٰ، علامہ صادق رضا تقوی، علامہ سید علی انور جعفری، علامہ مبشر حسن سمیت ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے دیگر علماء کرام و رہنما بھی شریک تھے۔ لاپتا شیعہ افراد کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے احتجاجی کیمپ میں علمائے کرام سمیت بڑی تعداد میں عزاداران امام حسینؑ نے شرکت کی۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج مرکزی جلوس اربعین حسینی شیعہ افراد کے کے مرکزی

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا