لودھراں میں حادثے کا شکار عوام ایکسپریس ٹرین کا بلیک باکس نکال لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
لاہور:
لودھراں میں حادثے کا شکار ہونے والی عوام ایکسپریس ٹرین کا بلیک باکس نکال لیا گیا۔
بلیک باکس سے معلومات ملنے کے بعد یہ پتہ چل سکے گا کہ ڈرائیور نے بروقت بریک کیوں نہیں لگایا اور گاڑی کی اسپیڈ 15 کلومیٹر فی گھنٹہ ہونے کے بجائے زیادہ کیوں تھی۔
فیڈرل انسپکٹر آف ریلوے نے لودھراں ٹرین حادثے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ڈرائیور سمیت دیگر ملازمین کے بیانات بھی قلم بند کر لیے گئے ہیں۔ ریلوے ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ مکمل ہوتے ہی وزارت ریلوے کو بھجوا دی جائے گی۔
دوسری جانب اسلام آباد ایکسپریس ٹرین حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ وزارتِ ریلوے کو جمع کرا دی گئی ہے مگر اس رپورٹ میں جن افسران اور ملازمین کو ذمہ دار قرار دیا گیا ان کے خلاف تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
ریلوے ٹریک کی خستہ حالی ہو یا ڈرائیور کی کوتاہی، مسافروں کے لیے ریل گاڑی سے سفر کرنا وبالِ جان بنتا جا رہا ہے۔ اسلام آباد ایکسپریس کے بعد لودھراں میں عوام ایکسپریس بھی حادثے کا شکار ہو گئی۔ رواں ماہ اب تک مختلف ٹرینوں کے ڈی ریلمنٹ اور حادثات کے 9 واقعات پیش آ چکے ہیں۔ پاکستان ریلویز کی تاریخ میں پہلی بار ایک ماہ کے دوران اتنے حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔
اسلام آباد ایکسپریس کی انکوائری رپورٹ مکمل ہو کر وزارتِ ریلوے کو فراہم کر دی گئی ہے مگر تاحال ان افسران کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی جن پر غفلت اور لاپروائی کی ذمہ داری عائد کی گئی تھی۔ اتوار کے روز ایک اہم اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب کسی کو نہیں چھوڑوں گا، افسران ایئر کنڈیشنڈ کمروں سے باہر نکلیں، ٹریک کی انسپکشن کریں اور ڈرائیوروں کے ریفریشر کورسز کرائے جائیں۔ عوام ایکسپریس حادثے کی ابتدائی رپورٹ میں بھی یہی بتایا گیا کہ بروقت بریک نہ لگانے کے باعث حادثہ پیش آیا۔
ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ بریک فیل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ جدید آٹومیٹک بریک سسٹم لگا ہوا ہے، اگر بریک میں کوئی خرابی بھی ہو تو بریک خودکار طور پر لگ جاتی ہے۔ عوام ایکسپریس ٹرین میں تین ہزار ہارس پاور کا چینی انجن ہے اور اس میں سلف بریک سسٹم نصب ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے ٹرین کا بلیک باکس نکال کر متعلقہ انجینئرز کے حوالے کر دیا ہے تاکہ اسے ڈی کوڈ کیا جا سکے۔ بلیک باکس سے یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ ڈرائیور نے بریک کب لگائی یا نہیں لگائی، اس وقت گاڑی کی اسپیڈ کتنی تھی، گاڑی لوپ لائن میں کیوں نہ رکی اور سینڈ ہب سے کیوں جا ٹکرائی۔ تمام تر معلومات ملنے کے بعد حتمی انکوائری رپورٹ تیار کی جائے گی۔ فیڈرل انسپکٹر آف ریلوے تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں۔
عوام ایکسپریس ٹرین کو لودھراں اسٹیشن پر 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے داخل ہونا تھا، لیکن ٹرین کی اسپیڈ اس سے کئی گنا زیادہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈرائیور نے آخری وقت پر بریک لگانے کی کوشش بھی کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا اور ٹرین سینڈ ہب سے ٹکرا گئی۔ حادثے کے نتیجے میں انجن سمیت پانچ بوگیاں الٹ گئیں جبکہ کچھ بوگیاں ایک دوسرے کے اوپر چڑھ گئیں جس یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ٹرین کی رفتار کس قدر زیادہ تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عوام ایکسپریس ٹرین کہ ڈرائیور بلیک باکس
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔