لاہور:

لودھراں میں حادثے کا شکار ہونے والی عوام ایکسپریس ٹرین کا بلیک باکس نکال لیا گیا۔

بلیک باکس سے معلومات ملنے کے بعد یہ پتہ چل سکے گا کہ ڈرائیور نے بروقت بریک کیوں نہیں لگایا اور گاڑی کی اسپیڈ 15 کلومیٹر فی گھنٹہ ہونے کے بجائے زیادہ کیوں تھی۔ 

فیڈرل انسپکٹر آف ریلوے نے لودھراں ٹرین حادثے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ڈرائیور سمیت دیگر ملازمین کے بیانات بھی قلم بند کر لیے گئے ہیں۔ ریلوے ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ مکمل ہوتے ہی وزارت ریلوے کو بھجوا دی جائے گی۔ 

دوسری جانب اسلام آباد ایکسپریس ٹرین حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ وزارتِ ریلوے کو جمع کرا دی گئی ہے مگر اس رپورٹ میں جن افسران اور ملازمین کو ذمہ دار قرار دیا گیا ان کے خلاف تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ 

ریلوے ٹریک کی خستہ حالی ہو یا ڈرائیور کی کوتاہی، مسافروں کے لیے ریل گاڑی سے سفر کرنا وبالِ جان بنتا جا رہا ہے۔ اسلام آباد ایکسپریس کے بعد لودھراں میں عوام ایکسپریس بھی حادثے کا شکار ہو گئی۔ رواں ماہ اب تک مختلف ٹرینوں کے ڈی ریلمنٹ اور حادثات کے 9 واقعات پیش آ چکے ہیں۔ پاکستان ریلویز کی تاریخ میں پہلی بار ایک ماہ کے دوران اتنے حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔

اسلام آباد ایکسپریس کی انکوائری رپورٹ مکمل ہو کر وزارتِ ریلوے کو فراہم کر دی گئی ہے مگر تاحال ان افسران کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی جن پر غفلت اور لاپروائی کی ذمہ داری عائد کی گئی تھی۔ اتوار کے روز ایک اہم اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب کسی کو نہیں چھوڑوں گا، افسران ایئر کنڈیشنڈ کمروں سے باہر نکلیں، ٹریک کی انسپکشن کریں اور ڈرائیوروں کے ریفریشر کورسز کرائے جائیں۔ عوام ایکسپریس حادثے کی ابتدائی رپورٹ میں بھی یہی بتایا گیا کہ بروقت بریک نہ لگانے کے باعث حادثہ پیش آیا۔

ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ بریک فیل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ جدید آٹومیٹک بریک سسٹم لگا ہوا ہے، اگر بریک میں کوئی خرابی بھی ہو تو بریک خودکار طور پر لگ جاتی ہے۔ عوام ایکسپریس ٹرین میں تین ہزار ہارس پاور کا چینی انجن ہے اور اس میں سلف بریک سسٹم نصب ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے ٹرین کا بلیک باکس نکال کر متعلقہ انجینئرز کے حوالے کر دیا ہے تاکہ اسے ڈی کوڈ کیا جا سکے۔ بلیک باکس سے یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ ڈرائیور نے بریک کب لگائی یا نہیں لگائی، اس وقت گاڑی کی اسپیڈ کتنی تھی، گاڑی لوپ لائن میں کیوں نہ رکی اور سینڈ ہب سے کیوں جا ٹکرائی۔ تمام تر معلومات ملنے کے بعد حتمی انکوائری رپورٹ تیار کی جائے گی۔ فیڈرل انسپکٹر آف ریلوے تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

عوام ایکسپریس ٹرین کو لودھراں اسٹیشن پر 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے داخل ہونا تھا، لیکن ٹرین کی اسپیڈ اس سے کئی گنا زیادہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈرائیور نے آخری وقت پر بریک لگانے کی کوشش بھی کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا اور ٹرین سینڈ ہب سے ٹکرا گئی۔ حادثے کے نتیجے میں انجن سمیت پانچ بوگیاں الٹ گئیں جبکہ کچھ بوگیاں ایک دوسرے کے اوپر چڑھ گئیں جس یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ٹرین کی رفتار کس قدر زیادہ تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عوام ایکسپریس ٹرین کہ ڈرائیور بلیک باکس

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے